حدیبیہ کیس: جسٹس کھوسہ کی نیب کی اپیل سننے سے معذرت

سپریم کورٹ کے جج جسٹس آصف سعید کھوسہ نے شریف خاندان کے خلاف حدیبیہ پیپر ملز کا مقدمہ دوبارہ کھولنے کے حوالے سے درخواست کی سماعت کرنے سے معذرت کر لی ہے۔ جس کے بعد چیف جسٹس نیا بینچ تشکیل دیں گے۔
سپریم کورٹ میں قومی احتساب بیورو نے حدیبیہ پیپر ملز کا مقدمہ دربارہ کھولنے کے حوالے سے درخواست دی تھی
جس کے بعد چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ تشکیل دی تھی۔ جسٹس دوست محمد اور جسٹس مظہر عالم میاں خیل اس بینچ کا حصہ تھے۔
بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق پیر کو جب نیب کی درخواست کی سماعت شروع ہوئی تو جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وہ پاناما لیکس سے متعلق اپنے 20 اپریل کے فیصلے میں حدیبیہ پیپر ملز کے بارے میں اپنی آبزرویشن دے چکے ہیں۔
اُنھوں نے کہا کہ اپنے فیصلے میں انھوں نے مقدمے کو دوبارہ کھولنے اور وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف کارروائی کرنے کا حکم دیا تھا۔
جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ شاید سپریم کورٹ رجسٹرار آفس نے ان کا یہ فیصلہ پورا نہیں پڑھا تھا اس لیے اُنھوں نے نیب کی اس درخواست کو اُن کے بینچ کے سامنے لگا دیا ہے۔
نیب کی درخواست کی سماعت کے حوالے سے نیا بینچ تشکیل دینے کے لیے اب یہ معاملہ چیف جسٹس کو بھجوا دیا گیا ہے۔
نیا بینچ تشکیل پانے کے بعد ہی شریف برادران کے خلاف نیب کی درخواست کی سماعت ہوگی۔

حدیبیہ ملز ریفرینس دائر کرنے کی منظوری مارچ 2000 میں نیب کے اس وقت کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل سید محمد امجد نے دی تھی
نیب کے حکام نے یہ درخواست لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر کی ہے جس میں لاہور ہائی کورٹ نے تین سال قبل شریف برادران کے خلاف حدیبیہ پیپرملز کے مقدمے کو ختم کرنے کا حکم دیا تھا۔
اُس وقت نیب کے حکام نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
تاہم نواز شریف کے خلاف پاناما لیکس کی درخواستوں کی سماعت کے دوران نیب کے حکام نے سپریم کورٹ کو حدیبیہ پیپر ملز کا مقدمہ دوبارہ کھولنے کے حوالے سے عدالت عظمیٰ میں درخواست دائر کرنے کی یقین دہانی کروائی تھی۔
حدبیہ پیپرز ملز کا مقدمہ ہے کیا؟
حدیبیہ ملز ریفرینس دائر کرنے کی منظوری مارچ 2000 میں نیب کے اس وقت کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل سید محمد امجد نے دی تھی۔
اگرچہ ابتدائی ریفرینس میں نواز شریف کا نام شامل نہیں تھا تاہم جب نیب کے اگلے سربراہ خالد مقبول نے حتمی ریفرینس کی منظوری دی تو ملزمان میں نواز شریف کے علاوہ ان کی والدہ شمیم اختر، دو بھائیوں شہباز اور عباس شریف، بیٹے حسین نواز، بیٹی مریم نواز، بھتیجے حمزہ شہباز اور عباس شریف کی اہلیہ صبیحہ عباس کے نام شامل تھے۔
یہ ریفرنس ملک کے وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار سے 25 اپریل 2000 کو لیے گئے اس بیان کی بنیاد پر دائر کیا گیا تھا جس میں انھوں نے جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے شریف خاندان کے لیے ایک کروڑ 48 لاکھ ڈالر کے لگ بھگ رقم کی مبینہ منی لانڈرنگ کا اعتراف کیا تھا۔
اسحاق ڈار بعدازاں اپنے اس بیان سے منحرف ہو گئے تھے اور ان کا موقف تھا کہ یہ بیان انھوں نے دباؤ میں آ کر دیا تھا۔

You May Also Like

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے