جیل حکام نے سزاے موت قیدی کی خواہش پوری کر کے سب کے دل جیت لئے

قیدی کی خواہش تھی کہ میں 20سال سے جیل میں ہوں اور میری ایک ہی بیٹی ہے جس کی شادی ہے تو میں اس کی شادی پر جانا چاہتا ہوں تفصیلات کے مطابق کبھی کبھار سزائے موت کے قیدی قید میں رہنے کی وجہ سے اپنے تلخ رویہ کیوجہ سے جیل حکام کو اتنا تنگ کرتے ہیں کہ وہ ان کو جسمانی سزا دینے پر مجبور ہو جاتے ہیں ۔لیکن گوجرانوالہ سینٹرل جیل کے سزائے موت کے

عبدالستار نامی قیدی نے اپنے رویہ کی وجہ سے جیل حکام کے دل جیت لئے ۔قیدی نے جیل حکام سے اپنی خواہش کا اظہار کیا تو جیل حکام افیسر انکار نہیں کر پائے ۔قیدی کی خواہش تھی کہ میں 20سال سے جیل میں ہوں اور میری ایک ہی بیٹی ہے جس کی شادی ہے تو میں اس کی شادی پر جانا چاہتا ہوں ،پولیس حکام نے صرف نہ اس کے جانے کا بندوبست کیا بلکہ لڑکی کے تمام جہیز کا بندوبست بھی اپنی جیب خرچے سے کیا ۔لڑکی کی رخصتی کے آخری الفاظ کہ میں جیل حکام کو دعاؤں کے سوا کچھ نہیں دے سکتی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے