جنرل صاحب روسٹرم پر آ جائیں

اسلام آباد(ویب ڈیسک)سپریم کورٹ میں اصغر خان کیس کی سماعت کے دوران سابق آرمی چیف جنرل (ر) مرزا اسلم بیگ پیش ہوئے جب کہ عدالت نے سماعت ڈھائی بجے تک ملتوی کردی۔چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے اصغر خان کیس نظرثانی درخواستوں پر سماعت کی۔ اس موقع پر چیف جسٹس نے استفسار کیا ‘جنرل ریٹائرڈ اسلم بیگ کہاں ہیں، وہ

تشریف لائے ہیں’ جس پر عدالت کو بتایا گیا کہ وہ موجود ہیں۔چیف جسٹس نے کہا ‘جنرل صاحب روسٹرم پر آجائیں’ جس کے بعد جنرل (ر) اسلم بیگ روسٹرم پر آئے اور کہا کہ مجھے صرف ایک روز قبل کیس مقرر ہونے کا بتایا گیا ہے، میں کیس کی تیاری نہیں کرسکا۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جنرل صاحب کسی صورت میں کیس کی سماعت ملتوی نہیں کی جائے گی، اگر آپ کے وکیل نہیں ہیں تو دلائل خود شروع کردیں۔اس موقع پر آئی ایس آئی کے سابق سربراہ اسد درانی کے وکیل نے کہا کہ مناسب ہوگا اس کیس کو اڑھائی بجے سن لیں۔چیف جسٹس نے وکیل سلمان اکرم راجا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ بھی اسی کیس میں آئے ہیں جس پر انہوں نے کہا کہ جی، میں اصغر خان کی جانب سے پیش ہوتا رہا ہوں جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ سلمان اکرم راجہ ہمیں اس کیس کا خلاصہ دے دیں۔دوسری جانب سپریم کورٹ نے بدنام زمانہ ایگزیکٹ جعلی ڈگری کیس کے مقدمات دو ماہ میں نمٹانے کا حکم دیا ہے جب کہ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ایگزیکٹ کے سربراہ شعیب شیخ کو دوبارہ جیل بھی جانا پڑسکتا ہے۔چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے

ایگزیکٹ جعلی ڈگری کیس کی سماعت کی۔اس موقع پر ڈی جی ایف آئی اے نے عدالت کو بتایا کہ ایگزیکٹ کے سربراہ شعیب شیخ ٹرائل میں تعاون نہیں کر رہے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ عدم تعاون کی صورت میں شعیب شیخ کی ضمانت منسوخ کردی جائے۔چیف جسٹس نے سوال کیا ایگزیکٹ کے سربراہ شعیب شیخ کہاں ہیں، کیا ان کی ضمانت ہو چکی ہے جس پر ڈی جی ایف آئی اے نے عدالت کو بتایا کہ تمام مقدمات میں ان کی ضمانت ہو چکی ہے۔چیف جسٹس نے ڈی جی ایف آئی اے سے استفسار کیا کہ ‘کیا آپ کو ملزمان سے مزید تحقیقات کرنی ہیں’ جس پر انہوں نے کہا کہ ہمیں مزید تحقیقات کی ضرورت نہیں ہے۔چیف جسٹس نے سوال کیا ایگزیکٹ کے کون کون سے کیسز کس عدالت میں زیر التوا ہیں، عدالت نے ایگزیکٹ جعلی ڈگری کیس کی تمام تفصیلات طلب کرلیں جب کہ عدالت نے حکم دیا کہ جعلی ڈگری کیس کے مقدمات دو ماہ میں نمٹائے جائیں۔عدالت نے دس روز میں ایگزیکٹ کے چینل کے سابق ملازمین کو تنخواہیں دینے اور دس روز میں 10 کروڑ روپے سپریم کورٹ میں جمع کرانے کا بھی حکم دیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے