جسٹس (ر) جاوید اقبال جانتے ہیں کہاں ہاں کہنی ہے اور کہاں ناں

اسامہ بن لادن کی ایبٹ آباد سے گرفتاری کے معاملے کی تحقیقات کرنے والے کمیشن نے اس وقت کے انٹیلیجنس بیورو کے سربراہ کو بیان ریکارڈ کروانے کے لیے طلب کیا تو انھوں نے انکار کر دیا۔ کمیشن کے سربراہ جسٹس (ریٹائرڈ) جاوید اقبال نے پیغام بھیجا کہ خود پیش ہوں گے یا بندے بھیج کر بلوایا جائے؟

انٹیلیجنس بیورو کے سربراہ اگلی پیشی پر موجود تھے۔

اسی کمیشن نے مسلح افواج کے سربراہوں کو بلایا لیکن برّی فوج کے سربراہ نہیں آئے۔ جسٹس جاوید اقبال کی ہدایت پر معاملہ رفع دفع کر دیا گیا۔

یہ دو واقعات نیب کے نئے سربراہ جسٹس جاوید اقبال کے ساتھ کئی برس کام کرنے والے ان کے بعض ساتھیوں کی نظر میں ان کی شخصیت اور کام کرنے کی صلاحیت کی درست نمائندگی کرتے ہیں۔

اپنے ساتھیوں میں وہ ایک دیانت دار فرد کے طور پر جانے جاتے ہیں جو سرکاری خزانے کو اتنی احتیاط سے خرچ کرتے رہے ہیں کہ ایبٹ آباد کمیشن کے سربراہ کی حیثیت سے انھوں نے نا صرف یہ کہ تنخواہ لینے سے انکار کیا بلکہ کمیشن کے اجلاس میں شرکت کے لیے غیر ضروری پروٹوکول اور گاڑیاں بھی استعمال کرنے سے گریز کرتے رہے۔

ستر کا پیٹا عبور کرنے کے باوجود ان کی کام کرنے کی ذہنی اور جسمانی صلاحیت بہت سوں سے بہتر ہے۔ ایبٹ آباد کمیشن کے کئی کئی گھنٹے جاری رہنے والے اجلاسوں کے بعد جب بھلے چنگے لوگ تھکے قدموں سے گھروں کی راہ لیتے، جسٹس جاوید کی ڈیوٹی پر تازہ دم اسٹینو بلوائے جاتے جنھیں وہ اجلاس کی کارروائی کی روداد لکھواتے۔ ویسے تو یہ کام ایک افسر کے ذمے تھا لیکن حساس بیانات جسٹس جاوید خود نوٹ کرواتے رہے۔

ایک موقع پر کمیشن کے ارکان نے ایبٹ آباد میں اس مکان کا دورہ کرنے کا فیصلہ کیا جہاں اسامہ بن لادن کئی سال روپوش رہے۔ ایبٹ آباد روانگی سے کچھ دیر قبل سکیورٹی حکام نے کمیشن کے ارکان کو بتایا کہ مصدقہ اطلاعات ہیں کہ اس دورے کے دوران کمیشن کے ارکان پر دہشت گرد حملہ کیا جائے گا۔ بیشتر ارکان اور عملے کے افراد نے دورہ ملتوی کرنے کا مشورہ دیا لیکن جسٹس جاوید اقبال ڈٹ گئے اور پروگرام میں تبدیلی کو غیر ضروری قرار دیا۔

جبری طور پر لاپتہ افراد کے کمیشن کے سربراہ کے طور پر بھی جسٹس جاوید اقبال کے بارے میں سائلین اور حکام ملے جلے جذبات رکھتے ہیں۔ انھوں نے کئی ایسے لاپتہ افراد کا معاملہ اٹھایا جن کی کہیں شنوائی نہیں تھی۔ کئی کو بازیاب کروانے کے احکامات جاری کیے لیکن معاملات جب خفیہ ایجنسیوں کے اعلیٰ حکام تک پہنچے تو بعض سائلین کے مطابق معاملات لٹکتے چلے گئے۔

انھوں نے منتخب حکومت کو برطرف کرنے والے فوجی سربراہ کے بنائے گئے آئینی حکم نامے کی پاسداری بھی کی اور مخالفت بھی۔ انہیں پی سی او کا حلف لینے پر جنرل پرویز مشرف نے سنہ 2000 میں بلوچستان ہائی کورٹ کا چیف جسٹس تعینات کیا لیکن دو نومبر 2007 میں انھوں نے پرویز مشرف کی ایمرجنسی کو قبول کرنے سے انکار کیا اور گھر پر نظر بند رہے۔

درج بالا واقعات سے نیب کے نئے سربراہ کی شخصیت میں بعض تضادات کا شائبہ ملتا ہے لیکن ان کے ساتھ کئی برس تک کام کرنے والے اس کی وضاحت ذرا مختلف انداز میں کرتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ جج صاحب اس نکتے کو بہت اچھی طرح سمجھتے اور استعمال کرتے ہیں کہ کہاں ناں کرنی ہے اور کہاں ہاں۔ کب کس جابر حکمران کے سامنے کلمہ حق کہنا ہے اور کہاں خاموشی میں ہی عافیت ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ جج صاحب کی یہی خوبی شاید مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کی قیادت کو بھا گئی کیونکہ ان دونوں جماعتوں کے سربراہوں کو نیب کے لیے شائد اسی طرح کے سربراہ کی تلاش تھی۔

You May Also Like

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے