‘جب 1200 انڈین فوجی مارے گئے’

انڈیا کی امن فوج (آئی کے پی ایف) سنہ 1987 میں امن قائم کرنے کے لیے سری لنکا گئی تھی لیکن لبریشن ٹائیگرز آف تمل ایلم (ایل ٹی ٹی ای) کے ساتھ جنگ میں اس کے کم از کم 1200 فوجی ہلاک ہو گئے۔

میجر جنرل شیونان سنگھ نے اس زمانے میں آئی پی کے ایف کے ساتھ سری لنکا میں 32 ماہ گزارے تھے اور اب 27 سال بعد ایک بار پھر وہ سری لنکا آئے ہیں۔

انھوں نے کہا: ‘میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ میں یہاں واپس آؤں گا۔’

ان کی آنکھیں جافنا کی پالائی ایئر بیس پر پھیلی ہریالی اور تین دہائیوں میں آنے تبدیلیوں کا جائزہ لے رہی تھیں۔ دوسری جانب سری لنکن فوج کے سپاہی ہمیں دیکھ رہے تھے۔

‘یہ جگہ بدل گئی ہے۔ یہ نئے دروازے، خاردار تار اور بیرکیں پہلے یہاں نہیں تھیں۔’

جافناتصویر کے کاپی رائٹSURENDER SANGWAN
Image captionجافنا میں آئی پی کے ایف کے جوان کو دیکھا جا سکتا ہے

انھوں نے بتایا آئی پی کے ایف کا مقصد تمل جنگجوؤں سے ہتھیار رکھوانا اور سری لنکا میں امن قائم کرنا تھا لیکن چند ہفتوں میں جنگ آئی پی کے ایف اور تمل باغیوں کے درمیان شروع ہو گئی۔

مارے جانے والے انڈین فوجیوں کی یاد میں، پلالی ایئر بیس پر ایک یادگار تعمیر ہے۔

انہوں نے کہا؛ ‘پہلے دن جب ہم یہاں پہنچے تو، سری لنکن فوجیوں نے سمجھا کہ ہم ان پر حملہ کرنے آئے ہیں اور انھوں نے اپنے ہتھیاروں رکھ دیے۔ ہم نے ان سے ہاتھ ملا‏ئے اور کہا کہ ہم امن مشن پر ہیں۔’

انھیں سری لنکا میں پیش آنے والے خطرات کے بارے میں کوئی معلومات نہیں دی گئی تھیں اور نہ ہی ان کے پاس علاقے کا گرڈ نقشہ یا فوجی انٹلیجنس تھیں۔

سنہ 1987 میں این پرمیشورن یونیورسٹی کے طالب علم تھے۔

وہ کہتے ہیں: ‘جب آئی پی کے ایف یہاں آئی سری لنکن تاملوں نے سوچا کہ وہ ان کی حفاظت کے لیے آئي ہے۔ ان کا زبردست خیرمقدم کیا گیا۔ لوگوں نے سوچا کہ انڈین فوج انھیں سری لنکن فوج سے بچانے کے لیے آئی ہے۔’

جافناتصویر کے کاپی رائٹSURENDER SANGWAN
Image captionجافنا میں انڈین فوجی

سری لنکا میں تمل اقلیت کے بعض لوگوں کا یہ خیال تھا کہ اکثریتی برادری سنہالا ان کی زبان اور مذہب کے اثرات کو کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

دونوں برادریوں کے درمیان تعلقات خراب تھے۔ سنہ 1956 میں منظور ہونے والے متنازع قانون میں، سنہالا کو واحد قومی زبان قرار دیا گیا تھا جس سے سرکاری اداروں میں کام کرنے والے تمل ناراض تھے کیونکہ اس سے ان کی ملازمتوں کو خطرہ لاحق تھا۔

ان وجوہات کے باعث تملوں نے علیحدہ ملک کا مطالبہ کرنا شروع کر دیا تھا۔

تملوں کے خلاف پرتشدد واقعات بھی ہوئے۔ سنہ 1983 میں ایل ٹی ٹی ای کے حملے میں 23 فوجی ہلاک ہوئے جس کے نتیجے میں پورے سری لنکا میں فسادات پھیل گئے۔

یہ کہا جاتا ہے کہ ان فسادات میں تین ہزار تمل ہلاک ہوئے۔ اس کی وجہ سے سری لنکا کی حکومت اور ایل ٹی ٹی وی کے درمیان جنگ نے شدت اختیار کر لی۔

انڈیا کی تمل آبادی علیحدہ تمل ملک کے مطالبے کے حامی تھی جبکہ اسی دوران انڈیا اور سری لنکا کے درمیان معاہدہ ہوا اور معاہدے پر دستخط کے چند گھنٹوں بعد انڈین فوجی سری لنکا پہنچ گئے تھے۔

این پرمیشورن
Image captionاین پرمیشورن اس وقت ایک یونیورسٹی کے طالب علم تھے

سری لنکا میں بہت سے لوگ اس معاہدے سے ناراض تھے جبکہ انڈین فوجیوں کو یہاں کسی جنگ کا خیال بھی نہیں تھا اور وہ سستے الکٹرانک سامان خریدنے میں لگے تھے۔

شیونان کہتے ہیں: ‘ہماری آرٹلری یونٹ کے پاس ہتھیار بھی نہیں تھے، ان کا خیال تھا کہ امن مشن پر ہتھیاروں کی کیا ضرورت ہو سکتی ہے۔’

انڈین فوجیوں اور ایل ٹی ٹی ایی کے تعلقات اچھے تھے۔ بھارتی ایجنسیوں نے کئی سال تک تمل جنگجوؤں کو تربیت دی تھی۔

ایل ٹی ٹی ای انتہاپسند جدید ہتھیاروں اور مواصلاتی سازوسامان سے لیس تھے۔

‘ان کے ہتھیار ہم سے کہیں بہتر تھے، جب ہم انھیں دیکھتے تو اپنے ہتھیار چھپا دیتے تھے۔ جہاں ہمارے ریڈیو سیٹ کی رسائی 10 سے 15 کلومیٹر تھی وہیں ان کے ریڈیو سیٹ کی حد 40-45 کلومیٹر تھی۔’

جب ایل ٹی ٹی ای نے ہتھیار ڈالنے سے انکار کیا، آئی پی کے ایف کے ساتھ ان کے تعلقات خراب ہو گئے اور ان کے درمیان جنگ شروع ہو گئی۔ انڈین فوج نے تمل باغیوں کے گڑھ جافنا پر قبضہ کرنے کے لیے اکتوبر میں حملہ کر دیا۔

جافنا کے بازار کا ایک منظرتصویر کے کاپی رائٹSURENDER SANGWAN
Image captionجافنا کے بازار کا ایک منظر

ایل ٹی ٹی ای کو اس حملے کی خبر مل گئی اور جیسے ہی شیونان اپنی ٹیم کے ساتھ یہاں پہنچے تین طرف سے ان پر گولیاں چلنی شروع ہو گئیں۔

ایل ٹی ٹی ای اور آئی پی کے ایف کے درمیان، اگلے 24 گھنٹے تک جنگ جاری رہی۔ اس دن آئی پی کے ایف کے 36 جوان ہلاک ہو گئے۔

سری لنکا میں انڈین فوج پر عصمت دری، تشدد اور قتل کے سنگین الزامات لگے تھے۔

مقامی لوگوں کے مطابق 21 اکتوبر 1987 کو جافنا کے ہسپتال میں بدترین واقعات میں سے ایک واقع ہوا۔

مقامی انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق چار سے پانچ ایل ٹی ٹی ایی کے انتہا پسندوں نے ہسپتال کے اندر آئی پی کے ایف کے فوجیوں پر فائرنگ کی۔

یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ آئی پی کے ایف کی جوابی کارروائی میں ہسپتال پر شدید فائرنگ کی گئي جس میں ڈاکٹروں، نرسوں اور مریضوں سمیت 60 افراد ہلاک ہوگئے۔

ہسپتال کی دیواروں پر ہسپتال کے عملے کی تصاویر اب بھی موجود ہیں۔

جافنا ہسپتال
Image captionہسپتال کے عملے کی تصاویر جو اس حملے کا شکار ہوئے تھے

انھوں نے کہا: ‘میں یہی کہہ سکتا ہوں کہ جو ہوا وہ برا ہوا۔ جب آئی پی کے ایف پر کوئی گولی چلاتا تھا تو وہ بھی جواب میں گولی چلاتے تھے۔ یہ بدقسمتی کی بات ہے۔ لیکن جہاں ملٹری آپریشن ہوتے ہیں، ایسے واقعات ہوتے ہیں۔’

سنہ 1990 میں انڈین فوج کو واپس بلا لیا گيا۔

جافنا کے تمل اخبار اتھين کے مدیر ٹی پریماننت کہتے ہیں: ‘ان کا رویہ سب کو بہت برا لگا۔ ہمیں سبق ملا کی فوج فوج ہوتی ہے۔ دنیا میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔’

سنہ 1991 میں سابق انڈین وزیر اعظم راجیو گاندھی کی قتل کے لیے بھی اس مشن کو ذمہ دار ٹھہریا جاتا ہے۔

تقریبا 30 سال بعد ریٹائرڈ میجر جنرل شیونان سنگھ خوش ہیں کہ جافنا میں امن ہے

You May Also Like

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے