تحریک انصاف کے میڈیا پر چلنے والے اشتہارات سے پیپلز پارٹی کو کیا تکلیف ہونے لگی ؟

اسلام آباد(ویب ڈیسک )پاکستان پیپلزپارٹی نے پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے ٹی وی پر چلائے جانے والے اشتہار میں پاکستان پیپلزپارٹی کی قیادت کے خلاف غیراخلاقی زبان استعمال کرنے اور جھوٹے اور بے سروپا الزامات لگانے پر الیکشن کمیشن آف پاکستان میں شکایت درج کر ادی ہے۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے

سیکریٹری جنرل سید نیر حسین بخاری کی جانب سے الیکشن کمیشن کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے مختلف سیاسی پارٹیاں انتخابات کے دوران اپنی پارٹی کے کارناموں اور پروگرام کے متعلق لوگوں کو آگاہی دینے کے لئے ٹی وی چینلوں پر اشتہارات دیتی ہیں لیکن پی ٹی آئی کی جانب سے ٹی وی چینلوں کو جاری کئے گئے اشتہارات میں پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کے صدر آصف علی زرداری کے خلاف ہتک آمیز زبان استعمال کی گئی ہے اور جھوٹے اور بے بنیاد الزامات لگا ئے گئے ہیں۔ سید نیر حسین بخاری نے کہا کہ مذکورہ اشتہار الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ ضابطہ اخلاق کے خلاف ہیں جس کا فوری طور پر نوٹس لیا جائے۔دوسری جانب سپریم کورٹ نے سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو وطن واپسی کے لیے تین روز کی مہلت دے دی۔سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے ایم ڈی پی ٹی وی تعیناتی کیس کی سماعت کی۔سماعت کے آغاز چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے سوال کیا کہ اسحاق ڈار کو بلایا تھا کدھر ہیں وہ؟ اس پر اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ وہ نہیں آئے۔جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ اسحاق ڈار عدالت کے بلانے پر

نہیں آئے، وہ صحت مند ہیں اور وہاں چلتے پھرتے ہیں، ہم ان کا پاسپورٹ منسوخ کردیں گے اور ریڈ وارنٹ جاری کرنے پر بھی غور کریں گے۔چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ اسحاق ڈار کے وکیل کو بلاکر پوچھیں طلب کرنے پر کیوں نہیں آئے؟ ان کی واپسی کے لیے جو کرنا پڑا کریں گے۔عدالت نے اس حوالے سے وزارت داخلہ کے حکام کو طلب کرتے ہوئے سماعت میں کچھ دیر کے لیے وقفہ کردیا۔وقفے کے بعد سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اسحاق ڈار ایم ڈی پی ٹی وی کیس میں ملوث ہیں، وہ سینیٹر ہیں پھر بھی بھاگے ہوئے ہیں اور سپریم کورٹ اتنی بے بس ہوگئی ہے کہ سابق وزیر کو نہیں بلاسکتی۔اس پر جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیئے کہ نواز شریف اور مریم نواز کو سزا ہوئی ہے وہ پھر بھی آرہے ہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ اسحاق ڈار مفرور ہیں، اگر نہیں آتے تو ہم کارروائی کریں گے، سٹیزن اریسٹ قانون کے تحت کوئی بھی شخص مفرور کو پکڑ کر عدالت میں پیش کرسکتا ہے۔جسٹس ثاقب نثار نے سیکریٹری داخلہ سے استفسار کیا کہ پاسپورٹ رکھنا ہر شہری کا حق ہے، کیا ہم اسحاق ڈار کا پاسپورٹ منسوخ کرسکتے ہیں یا نہیں؟ ہم سب کی عزت کرتے ہیں لیکن دوسروں کوبھی عدالتوں کی عزت کرنی چاہیے، ہم قانون کے دائرے میں رہ کر بلارہے ہیں لیکن وہ عدالت کی عزت نہیں کرتے، یہ توہین عدالت کا کیس بھی بن سکتا ہے۔(ذ،ک)

Post navigation

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے