تحریک انصاف قائد حزب اختلاف کا منصب حاصل کرنے میں ناکام

لاہور (ویب ڈیسک) اگلا چیئرمین نیب کون ہوگا اس پر تو ابھی مزید چند دن تک پردہ پڑا رہے گا تاآنکہ 8 اکتوبر کو تقرر کا باقاعدہ اعلان نہ ہو جائے لیکن اتنا تو ثابت ہو ہی چکا ہے کہ تحریک انصاف قائد حزب اختلاف کا منصب حاصل کرنے میں ناکام ہوگئی ہے اور یہ بھاری پتھر اس نے چومے بغیر ہی رکھ دیا ہے

۔چیئرمین نیب کے لئے حکومت نے تین نام تجویز کئے تھے، قائد حزب اختلاف نے بھی اتنے ہی نام اپنی جانب سے پیش کردیئے، آئینی تقاضا یہ ہے کہ وزیراعظم اس عہدے پر تقرر قائد حزب اختلاف کی مشاورت سے کریں۔ ماضی میں اسی روایت پر عمل ہوتا رہا، موجودہ چیئرمین قمر الزمان چودھری بھی اسی طریق کار پر عمل کرتے ہوئے مقرر کئے گئے تھے، وہ اپنے عہدے کی میعاد پوری کرکے ریٹائر ہونے والے ہیں لیکن اس تمام عرصے میں وہ تحریک انصاف کے نشانے پر رہے، اور انہیں موقع بے موقع ہدفِ تنقید بنایا گیا۔صف اول کے سیاسی تجزیہ کار قدرت اللہ چوہدری لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ چیئرمین جو بھی ہوگا ابھی سے معلوم ہورہا ہے کہ وہ بھی اسی سلوک کا مستحق گردانا جائے گا کیونکہ شاہ محمود قریشی نے کہہ دیا ہے کہ نیا چیئرمین بھی ’’قمر الزمان ٹو‘‘ ہوگا۔ اس کا مطلب تو یہی ہے کہ اگلا چیئرمین جو بھی ہو نقد و نظر کے تیروں کا رخ اس کی جانب رہے گا، ویسے تو تحریک انصاف نے قائد حزب اختلاف کو اپنی جانب سے تین نام بھی بھیج دیئے ہیں لیکن اسے یقین نہیں کہ شاہ صاحب ان میں سے کوئی نام زیر غور لائیں گے، کیونکہ اگر موسوم سی امید بھی ہوتی تو یہ تو نہ کہا جاتا کہ اگلا چیئرمین بھی ’’قمر الزمان ٹو‘‘ ہوگا، حکومت اور حزب اختلاف نے جن چھ ناموں کا تبادلہ کیا تھا وہ سب کے سب تحریک انصاف نے مسترد کرکے اپنی جانب سے تین ہیروں کے نام پیش کردیئے ہیں ایک نام ایم کیو ایم نے بھی پیش کیا ہے جماعت اسلامی نے بالکل مختلف طرز عمل اپنایا ہے اور یہ مطالبہ کیا ہے کہ چیئرمین نیب کے تقرر کے لئے پانچ چیف ججوں پر مشتمل کمیٹی بنائی جائے جو یہ فیصلہ کرے، مطالبہ کرنے میں تو کوئی حرج نہیں لیکن جب آئین میں ترمیم کرکے یہ شق شامل کی جارہی تھی کہ نیب کے چیئرمین کا تقرر وزیراعظم اور قائد حزب اختلاف باہمی مشاورت سے کریں گے معلوم نہیں اس وقت جماعت اسلامی کو یہ تجویز سوجھی تھی یا نہیں لیکن ہر مطالبہ نہ تو تسلیم کرنے کیلئے ہوتا ہے اور نہ ہی مطالبہ کرنے والوں کی سنجیدگی کا مظہر، آئین کی موجودگی میں آئین سے ہی رہنمائی لی جاتی ہے، ویسے مطالبہ کرنے والوں کا کیا ہے وہ تو کئی سال سے ٹیکنو کریٹ حکومت کی امیدیں بھی لگائے بیٹھے ہیں گزشتہ چھ ماہ میں تو بہت سے ٹیکنو کریٹس نے احتیاطاً شیروانیاں بھی سلوالی تھیں کہ نامعلوم کب بلا وا آجائے اس وقت شیروانی ملے نہ ملے کیونکہ ابھی تک ریڈی میڈ شیروانیوں کی مارکیٹنگ نہیں ہورہی۔تحریک انصاف کی جانب سے خورشید شاہ کو جوتین نام پیش کئے گئے ہیں وہ ان میں سے کوئی نام لے کر آگے وزیراعظم تک پہنچاتے ہیں یا نہیں، یہ ان کی اپنی صوابدید ہے لیکن جن لوگوں نے چند دن پہلے خورشید شاہ سے ان کا عہدہ چھیننے کی کوشش کی تھی انہیں ان سے کوئی امید نہیں رکھنی چاہئے، ویسے بھی اب یہ بات پوری طرح ثابت ہوچکی ہے کہ تحریک انصاف اور ایم کیو ایم نے قائد حزب اختلاف کو ہٹا کر اپنا بندہ لانے کی جو مہم چلائی تھی وہ ٹائیں ٹائیں فش ہوچکی ہے، اور سچی بات ہے اس کا انجام یہی ہونا تھا۔ تحریک انصاف کو یک دم خیال آیا تھا کہ چلئے وزیراعظم کا عہدہ تو فی الحال حاصل کرنا مشکل ہے، قائد حزب اختلاف پر شبِ خون مارتے ہیں چنانچہ شاہ محمود قریشی ایم کیو ایم پاکستان کے دفتر میں چلے گئے اور وہاں دونوں جماعتوں میں طے پایا کہ خورشید شاہ کو ہٹایا جائیگا اور شاہ محمود قریشی کو قائد حزب اختلاف بنایا جائیگا اس پر کہیں باہر سے رد عمل ابھی نہیں آیا تھا کہ تحریک انصاف کے اندر سے آواز اٹھی کہ اگر قائد حزب اختلاف بنانا ہے تو عمران خان کو بنائیں، شاہ محمود قریشی کو ہم نہیں مانتے، جبکہ خود عمران خان کا کہنا تھا کہ آنے والے دن ان کی مصروفیت کے ہیں اسلئے بہتر ہے شاہ محمود قریشی کو ہی قائد حزب اختلاف قبول کرلیا جائے، آپ ذرا غور فرمائیں یہ خیالی پلاؤ یہ سوچے بغیر ہی پکایا جارہا تھا کہ کیا عملاً خورشید شاہ کو ہٹانا ممکن بھی ہے یا نہیں۔ چنانچہ جس جماعت سے بھی رابطہ ہوا اس نے حوصلہ افزا جواب نہیں دیا، مسلم لیگ ق کے رہنماؤں نے کہا کہ تحریک انصاف فیصلہ پہلے کرلیتی ہے مشورہ بعد میں کرتی ہے اسلئے ہم ساتھ نہیں دیں گے۔ اے این پی، جماعت اسلامی، قومی وطن پارٹی اور دوسری جس جماعت سے بھی رابطہ کیا گیا یہی جواب ملا کہ فی الحال ایسی مہم جوئی نہ ہی کی جائے، چند دن تک ادھر ادھر ٹامک ٹامک ٹوٹیاں مارنے کے بعد تحریک انصاف کو یقین ہوگیا کہ خورشید شاہ کو ہٹایا نہیں جاسکتا۔ یہ مایوسی تحریک انصاف اور اس کے حامیوں کے بیانات سے جھلکتی رہی، اب جبکہ خورشید شاہ کو چیئرمین نیب کیلئے نام بھی پیش کردیئے گئے ہیں تو گویا تسلیم کرلیا گیا ہے کہ انہیں ہٹانا فی الحال ممکن نہیں البتہ یہ عین ممکن ہے کہ خورشید شاہ کو ہٹانے کی مزید کوششیں کی جائیں کیونکہ ابھی دو اہم تقرر بھی انہی کے مشورے سے ہونے ہیں، فی الحال تو ناکامی ہی تحریک انصاف کے حصے میں آئی ہے۔

You May Also Like

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے