تجھے میں نے کتنی بار سمجھایا ہے

لاہور (ویب ڈیسک )ولو پہلوان رستم پاکستان کا دنگل جیت کر جب لاہور آیا تو مخالفین نے ایک نیا شوشا چھوڑ دیا۔بھئی ہم تو تب مانیں جب بھولو ہیرو نمبرون سے اپنے بھائی کا بدلہ لے گا۔‘‘بھولو کو اپنے معصوم اور چہیتے بھائی اکی کی ہار کا بڑا رنج تھا۔ اس نے زبانوں کو لگام دینے کے لیے کہا’’جاؤ اس سورمے کو تیار کرو میں آرہا ہوں۔‘‘

حمیدا پہلوان نے اپنے بھتیجے کی للکار سنی تو ڈنڈالے کر اس کے پیچھے پڑ گیا۔

’’ناں بھئی تمہیں کس نے کہا ہے چیلنج کرو۔ جس نے کہا ہے اسے بھگتنے دو۔‘‘

’’ماما جی لوگ بھی تو چین نہیں لینے دیتے۔ اب اکی کالا سے گر گیا تو میرا کیا قصور ہے۔ میری اس سے جوڑ بنتی تو نہیں ہے مگر میں اکی کا بدلہ تو لے سکتا ہوں۔‘‘اللہ خیر کرے ،کیا ہمارا اچھا اور اعظم مر گئے ہیں۔تجھے میں نے کتنی بار سمجھایا ہے پتر تو صرف بالائی کھایا کر بچا کھچا دودھ تیرے شیرجواں بھائی ہی پینے کے لیے کافی ہیں۔میری بات دھیان سے اپنے پلے باندھ لے۔ لوگوں کا کیا ہے یہ تو تمہیں گرم کرکے کوئی نہ کوئی ایسی بات کہلوا دینا چاہتے ہیں جس سے خواہ مخواہ بدمزگی پیدا ہو سکتی ہے۔ بس ذرا ٹھنڈے دماغ سے سوچا کر۔تو بڑا ہے اور بڑا بن کر رہنے کی کوشش کر۔‘‘اکرم عرف اکی پہلوان انوکھی طرز کا پہلوان تھا۔ وہ اپنے عروج کی طرف گامزن تھا مگر اپنے طفلانہ اور بے نیاز انداز کشتی سے اپنے پاؤں پر خود کلہاڑی مار رہا تھا۔ رستم پاکستان کے دنگل سے تین ماہ قبل یعنی2جنوری1949ء کو اکی پہلوان کی کالا پہلوان پسر خلیفہ چنا پہلوان سے کشتی طے پائی تھی۔ دنگلوں کی سرزمین لاہور میں ایسا شاندار اور کانٹے دار جوڑ تیار کیا گیا تھا کہ سالوں تک اس کشتی کا مزہ بھولے سے نہیں بھلایا جاتا۔ اس کشتی کا ہر منظر دلآویز ،غیر متوقع اور حیران کن تھا۔

اس روز اقبال پارک میں تل دھرنے کو بھی جگہ نہ تھی۔ دونوں ٹیمیں اپنے اپنے شاہ زوروں کے ساتھ دنگل گاہ میں پہنچ چکی تھیں

۔اکھاڑے سے کچھ فاصلے پر خلیفہ وقت غلام محی الدین پہلوان آفتاب ہند اپنے رفیق خاص بھائی حسین کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔ اتنے میں اکھاڑے کی سلامی کا دور شروع ہوا۔ کالا پہلوان بڑے آرام اور تحمل کے ساتھ سلامی دینے کے بعد خلیفہ جی کے پاس آگیا اور جھک کر ان کے گھٹنوں کو چھو ا اور کہا۔

’’خلیفہ جی دعا کریں!‘‘

’’اللہ خیر کرے گا،پتر۔‘‘خلیفہ جی نے کہا۔’’بس ذرا تحمل سے سوچ سمجھ کر ہاتھ ڈالنا۔‘‘

کالا نورے والوں کی دف سے تھا۔ اس نے اپنا منہ اکھاڑے سے موڑ لیا اور مغرب کی طرف رخ کر بٹھ گیا۔ اس کے مخالف سمت میں بھولو برادران براجمان تھے۔ چھوٹی جوڑیں میدان میں آنے لگیں اور دنگل کا سماں بندھ گیا۔ اسی اثناء میں اکی کو نہ جانے کیا سوجھا اس نے ڈھولچیوں کو اشارہ کیا اور خود ایک ٹانگ پر لڈی ڈالتا ہوا میدان میں آگیا۔ اکی کا یہ انداز بڑا دلکش ہوتا تھا۔ وہ اپنی گھن گرج کے کمال سے تماشائیوں کے پیسے پورے کرادیتا تھا۔ لوگ توقع کررہے تھے کہ دوسری جانب بٹھا کالا پہلوان بھی اٹھے گا اور دونوں حریف لڈیاں ڈال کر اپنا اپنا عکس ڈالیں گے مگر کالا اپنی جگہ پر جما رہا۔ کالا کے حمایتیوں نے کن اکھیوں سے اپنے شاہ زور کو دیکھا کہ شاید وہ بھی اٹھے گا لیکن کالا اکی کی حرکات و سکنات کا بڑے تحمل اور سکون سے نظارہ کرتا رہا۔ یہ سماں کئی چھوٹی جوڑوں تک بندھا رہا۔ بالآخر جب بڑی جوڑ کے میدان میں آنے کا اعلان ہوا تو اکی پہلوان جذبات سے مچل اٹھا۔

اس کے اندر سمندر جیسا مدوجزر تھا۔وہ بے پناہ ہیجان میں آگیا اور ایک لات کے رقص پر حاضرین کے ہجوم کو مسرور و محسور کرتا رہا۔ادھر کالا پہلوان توقع کے برخلاف اٹھا اور تحمل کے ساتھ لنگر لنگوٹ کس کر خلیفہ غلام محی الدین سے اجازت لے کر اس طرح آگے بڑھا جیسا وہ عموماً اکھاڑے میں خلیفہ کی اجازت سے زوروں کے لیے اترتا تھا۔ اس کے رویّہ سے ثابت ہو رہا تھا جیسے یہ کشتی اس کی زندگی میں کوئی اہمیت ہی نہ رکھ رہی ہوں۔نہ وہ جوش نہ وہ پھرتیاں جو بڑے پہلوانوں کی بڑی کشتی کے دوران دیکھنے کو ملتی تھیں یہاں بالکل مفقود تھیں۔

کالا شاید نفسیاتی چال چل رہا تھا۔ وہ اپنے پھیکے پن سے تماشائیوں کو دھوکے میں رکھ رہا تھا۔منصف دونوں پہلوانوں کو اکھاڑے میں چھوڑ کر ایک طرف ہو گیا۔ اکی نے ہاتھ ملاتے ہی خوفناک جھپکی دی۔ کالا نے فوراً دفاعی پینترا بدلا اور اکی کے دوسرے حملے کے لیے تیار ہو گیا۔ دیکھنے والوں کو کشتی میں ایک نمایاں فرق محسوس ہو رہا تھا۔اکی کے پاؤں تو زمین پر لگ ہی نہیں رہے تھے جبکہ کالا کے قدم جیسے اکھاڑے میں گڑے ہوئے تھے۔ کشتی بڑی تیزی کے ساتھ ہو رہی تھی۔کالا کا انداز کشتی یہ بتا رہا تھا جیسے وہ اکی کی رگ رگ سے واقف ہے۔ وہ جس تحمل کے ساتھ طاقت کے اس طوفان کا رخ موڑ ڈالتا تھا اس کے پیچھے نورے والوں کی سالوں بھر کی ریاضت اور فن دکھائی دے رہا تھا۔، پھر جب اکی نے اپنا پسندیدہ داؤ مار تو کالا پہلوان نے اکی کی گردن اور بازو کو اپنے دونوں بازوؤں کی گرفت

میں بری طرح جکڑ لیا اور پورے زور سے اکی کی جکڑی ہوئی گردن کو دو تین بار اپنی طرف کھینچا۔ اکی کالا کے داؤ میں پھنس چکا تھا۔ وہ بڑی مشکل میں مبتلا ہو گیا تھا۔ اکی کی آنکھوں پر دباؤ حد سے زیادہ بڑھ گیا تو وہ فصیل جاں کی ساری قوتیں اکٹھی کرکے داؤ سے نکل گیا اور جواب آں غزل کے طور پر ایسا بھرپور حملہ کیا کہ پلک جھپکنے میں کالا پہلوان کو آگے بٹھا لیا۔اب کالا کی شکست یقینی تھی۔ خلیفہ غلام محی الدین نے بے اختیار پگڑی سر سے اتار کر گود میں رکھ لی۔ کالا نیچے خاصا دباہوا نظر آرہا تھا۔ اسی اثناء میں اکی دانت کچکچا کر کالا کو بڑا ریلا مارنے کا سوچ ہی رہا تھا کہ کالا پہلوان نے نیچے سے ایسا نپا تلا دھڑا مارا کہ خلیفہ غلام محی الدین نے اپنی گود میں رکھی ہوئی پگڑی کو سر پر رکھ لیا اور بے اختیار کہا۔

’’ بھئی اوگیا جے۔‘‘خلیفہ غلام محی الدین کی دور بین نظروں نے کالا کی فتح بھانپ لی اور اپنی جگہ پر بار بار پہلو بدلنے لگا۔ پھر ہوا بھی ایسے ہی۔۔۔اکی کالا کے داؤ کی لپیٹ میں ایسا آیا کہ صاف چِت ہو گیا۔کشتی گاہ میں نورے والوں کی دھمالوں سے زمین کا کلیجہ پھٹ رہا تھا۔ایک طرف یہ جوش و خروش تھا تو دوسری طرف شادی مرگ کا سماں تھا۔

اکی دھاڑیں مار مار کر رو رہا تھا۔

یہ اس کی پہلی ہار تھی۔ورنہ وہ تو اب تک میدان پر میدان مارتا آرہا تھا۔شام کو بڑوں کا اکٹھ ہوا اور اس ہار کے داغ کو دھونے کی تدبیریں ہونے لگیں۔امام بخش پہلوان نے اپنے فرزند کو خوب جھاڑ اور کہا’اکی تو ترکھا ضرور ہے مگر ہے کم عقل۔۔۔تجھے بار بار سمجھایا ہے کہ زیادہ جی داری نہ دکھایا کر۔۔۔کبھی تو تو اڑپھس میں پھنس جاتا ہے اور کبھی مار دھاڑ میں پڑ جاتا ہے۔تجھے پتہ ہے ہم نے اپنی دف کا شملہ اونچا رکھنے کے لیے کتنی قربانیاں دی ہیں۔ تو نے تو آج ہمیں نورے والوں کے ہاتھوں ذلیل کروا دیا ہے۔۔۔‘‘

’’ابا جی!میں بدلہ ضرور لوں گا۔‘‘اکی سر جھکائے بولا۔

’تو جب بدلہ لے گا پانی سر سے گزر چکا ہو گا۔‘‘حمیدا پہلوان نے کہا۔’’اپریل میں میلہ چراغاں دنگل ہو رہا ہے۔ میں نے سوچا ہے کہ کالا کو اچھا کے لیے مانگ لیا جائے اور اب ویسے بھی اس کو حق پہنچتا ہے کہ وہ اچھا سے کشتی لڑے۔‘‘امام بخش اور حمیدا پہلوان نے اس پہلو پر کافی سوچ بچار کی۔ آخر فیصلہ ہوا کہ10 اپریل 1949 ء کو ہونے والے شاہی دنگل میں اچھا پہلوان کو کالا سے لڑایا جائے۔ ٹھیکیداروں نے بات چلائی اور چند ماہ کے وقفے کے بعد لاہوریوں کو ایک اور کانٹے دار جوڑ دیکھنے کا موقع مل گیا

۔ اس دنگل میں اکی پہلوان کی تلا پہلوان پسر بدھو پہلوان سے کشتی رکھی گئی۔کالا کے ہاتھوں امام بخش کے فرزند اور بھولو کے برادر اکی پہلوان کی شکست کا چرچا ہر سو پھیل چکا تھا۔اب یہ بات عیاں ہو چکی تھی کہ اچھا پہلوان اکی کا بدلہ لینے کے لیے کالا سے مقابلہ پر اتر رہا ہے۔تماشائی اس تجسس آمیز بدلے کو دیکھنے کے لیے لاہور کا رخ کررہے تھے۔ یہ اس لاہور شہر کی بات ہے جب ابھی ٹریفک عام نہیں تھی۔ بڑا کھلا اور پر فضا ماحول ہوتا تھا۔ بادشاہی مسجد کے پہلو میں اقبال پارک میں بڑے دنگلوں کے لیے بڑا اکھاڑہ کھودا جاتا تھا جس میں ہر دو تین ماہ بعد بڑی کشتیاں ہوتی تھیں۔پاکستانی پہلوانوں کے لیے یہ اکھاڑہ بڑا متبرک ہوتا تھا۔لاہور میں ہونے والی تمام کشتیاں چاہے وہ لاہور کے کسی اور مقام پر ہی کیوں نہ ہو رہی ہوتیں،پہلوان کشتی سے ایک روز قبل اس اکھاڑے کو سلامی دینے آتے تھے۔کالا ننگی تلوار تھی جو بھولو برادران کے سر پر لٹک رہی تھی۔اچھا کو فن اور طاقت کی ایسی دو دھاری تلوار بنا کر کالا کے مقابلے پر لایا جارہا تھاجو بیک وقت دونوں طرف سے اسے کاٹ کررکھ دیتی۔ کالا کے حوصلے تو بے نیام تھے ہی مگر اچھا کا جنون بھی قابل دید تھا۔ وہ امام بخش ،حمیدا پہلوان،بھولو، حسو،اعظم ،اکی،گوگا، کلا، خلیفہ بلو اور اکھاڑے کے دوسرے پہلوانوں کے نرغے میں مشقت کررہا تھا۔اس کے سرپرستوں نے اس کی تیاری کے لیے جان لڑا دی تھی۔ ویام شالہ میں عالم پیری کے باوجود گاماں جی اور امام بخش اچھا کے اوپر دھاڑ رہے ہوتے تھے۔ وہ خود اسے زور کراتے۔ دوسری طرف کالا پہلوان بھی اللہ یار کے اکھاڑے میں اپنی دف کے بڑے پہلوان غونثہ اور ان کے اکھاڑے کے دوسرے پہلوانوں سے زور کرتے تھے۔ کچھ دنوں کے لیے تو یونس پہلوان بھی گوجرانوالہ سے آگیا۔ وہ کالا کا ہمدم تھا۔ غونثہ اور یونس اپنے پٹھوں کے ساتھ مل کر کالا کو اتنے زور کراتے کہ کالا بے ہوش ہو کر اکھاڑے میں گر جاتا۔(جاری ہے)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے