تاریخ کا جھروکہ: غوری خاندان کے عروج و زوال کا ایک مختصر جائزہ

لاہور (ویب ڈیسک )غوری سلطنت یا سلسلہ غوریاں کا خمیر وسطی افغانستان کے علاقے ’’غور‘‘ سے اٹھا۔ کہا جاتا ہے کہ وہ تاجک تھے لیکن اس بارے میں ابہام موجود ہے۔ غور کے لوگ بارہویں صدی عیسوی میں مسلمان ہوئے۔ ابو علی بن محمد جو 1011ء سے 1035ء تک اقتدار میں رہا سلطنت غوریہ کا پہلا حاکم مسلمان تھا

جس نے غور میں مساجد اور مدارس تعمیر کیے۔ غوری خاندان شروع میں خاندان غزنی کی حکومت کا باج گزار تھا اور کابل اور ہرات کے درمیان غور کے پہاڑی علاقے پر اس کی حکومت تھی۔ اس علاقے کا مرکز فیروز کوہ تھا۔ غوریوں نے غزنویوں سے اپنی آزادی کا اعلان کرنا شروع کیا۔ 1149ء میں غزنوی حاکم بہرام شاہ نے غوریوں کے ایک مقامی قائد قطب الدین محمد کو زہر دے دیا۔ وہ اپنے بھائی سیف الدین سوری سے جھگڑے کے بعد غزنی میں پناہ لیے ہوئے تھا۔ بدلہ لینے کے لیے سیف الدین نے غزنی پر حملہ کر کے سیف الدین کو شکست دے دی۔ یہیں سے غوریوں اور غزنویوں کی جس لڑائی کا آغاز ہوا اس کا انجام لاہور میں ہوا۔ غوریوں نے 1186ء میں غزنوی سلطنت کا اس وقت خاتمہ کیا جب انہوں نے ان کے آخری دارالحکومت لاہور پر قبضہ کیا۔ اپنے عروج کے دور میں غوری سلطنت خراسان سے بنگال تک پھیل گئی تھی۔ جب غوریوں کی سلطنت کا خاتمہ ہوا تو خراسان و ایران میں خوارمی سلطنت قائم ہوئی جبکہ شمالی ہندوستان میں مملوک برسراقتدار آئے۔ سیف الدین سوری نے بہرام شاہ غزنوی کے زمانے میں غزنی پر حملہ کرنے اور شہر پر قبضہ کرنے کے بعد سلطان کا لقب اختیار کیا

لیکن بہرام شاہ نے جلد ہی غزنی کو اس سے چھین لیا اور سیف الدین کو قتل کرا دیا۔ جب سیف الدین کے بھائی علائو الدین حسین کو اطلاع ملی تو اس نے بھائی کا انتقام لینے کے لیے غزنی پر حملہ کر دیا اور شہر کو آگ لگا دی اور سات دن تک قتل عام کیا۔ اس ظالمانہ اقدام پر وہ تاریخ میں علائو الدین جہان سوز کے نام سے جانا جاتا ہے۔غور کے اس خاندان کو حقیقی اہمیت دو بھائیوں غیاث الدین اور شہاب الدین محمد غوری کے زمانے میں حاصل ہوئی جو سیف الدین ثانی کے چچا زاد بھائی تھے اور سیف الدین کے انتقال کے بعد یکے بعد دیگرے تخت نشین ہوئے۔ غیاث الدین غوری نے غزنی کو مستقل طور پر فتح کر لیا اور شہاب الدین محمد غوری کو سلطان معز الدین کا خطاب دے کر غزنی میں تخت پر بٹھایا۔ غیاث الدین نے اس دوران ہرات اور بلخ بھی فتح کر لیے اور ہرات کو اپنا دار الحکومت بنایا۔ سلطان شہاب الدین غوری اگرچہ اپنے بھائی کا نائب تھا لیکن اس نے غزنی میں ایک آزاد حکمران کی حیثیت سے حکومت کی اور شمالی ہندوستان کو فتح کرکے تاریخ میں مستقل مقام پیدا کر لیا۔ شہاب الدین غوری نے اپنی فتوحات کا آغاز ملتان اور اوچ سے کیا اور 1175ء میں دونوں شہر فتح کر لیے۔ اس کے بعد 1179ء میں پشاور اور 1182ء میں دیبل کو فتح کرکے غوری سلطنت کی حدود کو بحیرۂ عرب کے ساحل تک بڑھا دیا۔ شہاب الدین نے 1186ء میں لاہور پر قبضہ کرکے غزنوی خاندان کی

حکومت ہمیشہ کے لیے ختم کردی۔ فتح لاہور کے بعد شہاب الدین نے بھٹنڈا فتح کیا جس پر دہلی اور اجمیر کا ہندو راجہ پرتھوی راج چوہان ایک زبردست فوج لے کر اس کے مقابلے پر آیا اور تلاوڑی کے میدان میں شہاب الدین کو شکست دی لیکن شہاب نے اگلے ہی سال پچھلی شکست کا بدلہ چکاتے ہوئے نہ صرف پرتھوی راج کو شکست دی بلکہ وہ جنگ میں مارا بھی گیا۔ شہاب نے آگے بڑھ کر دہلی اور اجمیر کو فتح کر لیا اور اس کے سپہ سالار بختیار خلجی نے بہار اور بنگال کو زیرنگیں کیا۔ یوں پورا شمالی ہندوستان ان کے قبضے میں آگیا۔ غیاث الدین نے 46 سال حکومت کی۔ اس کے انتقال کے بعد شہاب الدین محمد غوری ہرات میں بھائی کی جگہ پوری غوری سلطنت کا بادشاہ بن گیا۔غوریوں اور خوارزم شاہی سلطنت کے درمیان جنگوں کا سلسلہ پرانا تھا اور انہی لڑائیوں کے سلسلے میں شہاب الدین خوارزم تک پہنچ گیا لیکن وہاں اس کو شکست ہوئی۔ اس خبر کے پھیلنے پر پنجاب کے کھوکھروں نے بغاوت کردی۔ محمد غوری فوراً پنجاب آیا اور بغاوت فرو کی لیکن بغاوت فرو کرنے کے بعد جب وہ واپس جا رہا تھا تو دریائے جہلم کے کنارے ایک اسماعیلی فدائی نے حملہ کرکے اسے قتل کر دیا۔ اس کے ساتھ غوری خاندان کی حکومت بھی ختم ہو گئی۔ ہرات اور غزنی کے علاقوںپر خوارزم شاہ کی حکومت قائم ہو گئی اور برصغیر پاک وہند میں محمد غوری کے وفادار غلام اور دہلی میں سلطان کے نائب قطب الدین ایبک نے ایک مستقل حکومت قائم کر لی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے