بھتہ وصولی کیلئے مسلح گروپس بنائے

 

کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) پیپلز امن کمیٹی کے سرغنہ عزیز بلوچ کا کہنا ہے کہ اس نے پولیس افسروں کی تعیناتی اوربھتہ وصولی کیلئے مسلح گروپس بنائے جبکہ ملانثار، استادتاجو، سہیل ڈاڈا اور سلیم چاکلیٹ ودیگراس کے قریبی ساتھی تھے۔
لاپتہ شخص سے متعلق کیس میں عزیربلوچ کابیان حلفی جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا گیا ہے۔ اقبالی بیان حلفی میں عزیر بلوچ نے اعتراف کیا ہے کہ اس نے 2003میں رحمان ڈکیت گروپ میں شمولیت اختیارکی اور رحمان ڈکیت کی ہلاکت پرگینگ کی کمان سنبھالی۔ اس نے پیپلزامن کمیٹی کے نام پرمسلح دہشت گردگروہ بنایا جبکہ پولیس افسروں کی تعیناتی اور بھتہ وصولی کیلئے بھی مسلح گروپس بنائے۔

میرے پاپا جاسوس نہیں ،جب سے وہ گرفتار ہوئے سندھ سرکار نے منہ پھیر لیاہے :عزیر بلوچ کی بیٹی منظر عام پرآ گئی
عزیر بلوچ نے اپنے بیان حلفی میں مزید کہا ہے کہ ملانثار، استاد تاجو، سہیل ڈاڈا اور سلیم چاکلیٹ و دیگر اس کے قریبی ساتھی تھے۔ اس نے مختلف ذرائع سے اسلحہ جمع کیا اور پھر یہ اسلحہ پولیس مقابلوں اورتھانوں پرحملوں میں استعمال کیا، گینگ کا اسلحہ سیاسی جلسوں، مظاہروں اوردیگرکاموں کیلئے بھی استعمال کیا گیا۔

You May Also Like

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے