بھاگنے والے فوجی کے پیٹ میں بہت کیڑے

شمالی کوریا سے فرار ہونے والے فوجی کے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اس فوجی کی آنتوں میں بہتزیادہ تعداد میں پیراسائٹس (یعنی کیڑے) موجود ہیں۔
یاد رہے کہ پیر کے روز ایک شمالی کوریائی فوجی دونوں ممالک کے درمیان ڈی میلیٹرائزڈ زون سے بھاگ کر جنوبی کوریا پہنچ گیا تھا تاہم سرحد عبور کرتے ہوئے اسے گولی مار کر زخمی کر دیا گیا تھا۔
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اس فوجی کی حالت مستحکم ہے مگر اس کے جسم میں بہت زیادہ کیڑے ہیں جس وجہ سے ان کی حالت زیادہ خراب ہو رہی ہے۔
’شمالی کوریا سے بھاگنے والے فوجی کو گولی ماری گئی‘
خیال کیا جا رہا ہے کہ اس فوجی کی صحت شمالی کوریا میں عوام کی صحت کے حوالے سے ایک مثال ہے۔
جنوبی کوریائی ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ میں نے گذشتہ 20 سال میں ایسی صورتحال نہیں دیکھی۔ انھوں نے بتایا کہ فوجی کے پیٹ سے نکلنے والا سب سے بڑا کیڑا 27 سینٹی میٹر کا تھا۔
سیول میں پروفیسر آنڈرے لانکوو نے کہا کہ شمالی کوریا ایک غریب ملک ہے اور دیگر غریب ممالک کی طرح وہاں پر صحت عامہ کے سنگین مسائل ہیں۔
’شمالی کوریا کے پاس جدید میڈیکل نظام بنانے کے وسائل نہیں ہیں اور اس کے ڈاکٹر قدرے غیر تربیت یافتہ ہیں اور انھیں پرانے آلات کے ساتھ کام کرنا پڑتا ہے۔‘
2015 میں جنوبی کوریائی محققین نے 2006 سے 2014 تک شمالی کوریا سے بھاگنے والوں کے صحت ریکارڈز کا جائزہ لیا اور انھیں جنوبی کوریا کے مقابلے میں ہیپیٹائیٹس بی، ہیپیٹائیٹس سی، ٹی بی اور کیڑوں سے انفیکشنز کے اونچے ریٹس ملے۔
ڈانکک یونیورسٹی کے میڈیکل سکول سے منسلک پروفیسر سیونگ منگ کہتے ہیں کہ ’مجھے نہیں پتہ کہ شمالی کوریا میں کیا ہو رہا ہے مگر مجھے وہاں سے بھاگنے والوں میں بہت کیڑے ملے ہیں۔‘ تاہم ان کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کے جیسے دیگر ممالک مثلاً بنگلہ دیش اور کئی افریقی ممالک کی عوام کے مقابلے میں شمالی کوریا کے عوام زیادہ صحت مند ہیں۔ ’ملک میں غربت کی سطح کو مدِ نظر رکھتے ہوئے شمالی کوریا میں اوسط حدِ عمر کہیں زیادہ ہے۔‘

فوجی کو شمالی کوریائی فوج نے کم ازکم چھ گولیاں چلائیں اطلاعات کے مطابق گولی ان کے کندھے پر لگی
ہاں! چونکہ یہ فوجی پہلے سے ہی نازک حالت میں ہیں، تو یہ کیڑے ان کی حالت کو مشکل بنا رہے ہیں۔
اس فوجی پر شمالی کوریائی فوج نے کم ازکم چھ گولیاں چلائیں اطلاعات کے مطابق گولی ان کے کندھے پر لگی
شمالی کوریا سے تقریباً ہر سال ایک ہزار افراد بھاگ کر جنوبی کوریا جاتے ہیں تاہم ان میں سے شاید ہی کوئی ہو جو بارودی سرنگوں سے بھری اور دونوں جانب سے فوجیوں کی کڑی نظر والی ڈی میلیٹرائزڈ زون کے ذریعے بھاگنے کی کوشش کرے۔
گذشتہ تین سالوں میں یہ صرف چوتھا موقع ہے کہ کوئی شمالی کوریائی فوجی اس زون سے فرار ہوا ہو۔

You May Also Like

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے