بھارت میں فقیروں نے ایسا اعلان کر دیا کہ جان کر آپ کو بھی حیرت ہو گی

ممبئی (ویب ڈیسک/نعیم) بھارتی ریاست اتر پردیش کے فقیروں نے متفقہ فیصلہ کیا ہے کہ اب وہ بھیک میں ایک روپے کا سکہ نہیں لیں گے۔ تفصیلات کے مطابق اتر پردیش کے شہر رام پور کے فقیروں نے اس کی وجہ یہ بتائی ہے کہ آسمان سے باتیں کرتی مہنگائی کے

اس دور میں ایکروپے اس کی کوئی اہمیت نہیں رہی۔شکرا مانی فقیر نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نریندرمودی کی جانب سے اس بات کا اعلانکیا گیا ہے کہ جلد 500اور 1000کے نوٹ ختم کرکے اس کی جگہ سکے متعارف کرائے جائیں گے۔ اس نے مزید کہا کہ جب 500اور 1000کے سکے آجائیں گے تو آپ خود اندازہ لگائیں کہ ایک روپے کے سکے کی کیا اہمیت ہوگی اور اس کا کیا سائز ہوگا؟دکانداروں اور رکشہ ڈرائیوز نے بھی فقیروں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں بھی ایک روپے کا سکہ لینا منظور نہیں۔یہ بھی پڑھیں۔۔۔ یہ بھکاری ماہانہ کتنےپیسے کماتا ہے اس کے کتنے کاروبار اور بیویاں ہیں؟جان کر آپ بھی اپنا سر پکڑ لیں گےبھارت سے تعلق رکھنے والے اس بھکاری سامنے آیا ہے جس کی ماہانہ آمدنی چھ لاکھ روپے سے زیادہ ہے جبکہ اسے بھیک سے ہر ماہ تقریباً50ہزار روپے آتے ہیں ۔ انڈین اخبار کی رپورٹ کے مطابق بھارتی ریاست جھاڑ کھنڈ سے تعلق رکھنے 40 سالہ بھکاری کو چھوٹو برائک کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ اپنے کام کی سرگرمیاں ادھر پور ریلوے اسٹیشن پر کرتا ہے اور وہیں اکثر بھیک مانگتے ہوئے دیکھا بھی گیا ہے ۔

اپنے دیگر کاروبار کو دیکھنے کیلئے کبھی کبھار چھٹی بھی کرتا ہے ۔ چھوٹو کئی دہائیوں سے بھیک مانگتا آرہا ہے۔ اس نے دانشمندی سے کام لیتے ہوئے بھیک کی رقم جمع کیا اور بچ جانے والے پیسوں سے مختلف کاروبار شروع کیے ۔ اس نے متعدد دکانیںبنائیں ہیںجن میں سب سے بڑی دوکان برتنوں کی ہے جس کی ذمہ داریاں کی ذمہ داریاں اس کی تین بیویوں کے پاس ہیں۔ باقی دو بیویاں بھی اس کےمختلف کاموں کی نگرانی کرتیں ہیں، تاہم وہ خود ادھر پور ریلوے اسٹیشن پر بھیک مانگتا ہے ۔ یہ بھی پڑھیں۔۔چونٹیاں گندم کے دانے واپس چکی میں لارہی ہیں ایک مسلمان اور ہندو کا شراکتی کاروبار تھا مسلمان آٹے کی چکی سمبھالتا تھا اور حساب کتاب بھی مسلمان ہی لکھا کرتا تھا ہندو باہر کے کام سمبھالتا تھا جیسا کہ گندم کی خرید مارکیٹ میں آٹے کی سپلائی وغیرہ دونوں اچھے دوست بھی تھے ہندو روزانہ فارغ ہو کر چکی پر آتا تھا اپنے پارٹنر مسلمان دوست کے ساتھ صلاح مشورہ کرکے چلا جاتا تھا کئی سال ہوگئے تھےان دونوں کو شراکتی کاروبار کرتے ہوئے کبھی کوئی بات نہیں ہوئی تھی دونوں ایمانداری سے اپنا اپنا کام کرتے تھے بزنس بھی اچھا چل رہا تھا اور دوستی بھی۔

ایک دن ہندو آیا اور حسب معمول بات چیت کرتا رہا اس کی نگاہ دروازے کے کونے پر تھی وہ دیکھ رہا تھا کہ چونٹیاں گندم کے دانے اٹھا اٹھا کر لیجارہی ہیں چلتے وقت اس نے اپنے دوست پارٹنر سےدوست پارٹنر سے کہا کے دو دن کے بعد آوں گا آپ حساب بنالینا میں پارٹنرشپ ختم کررہا ہوں۔ مسلمان نے وجہ معلوم کی تو اس نے کہا بس آپ حساب بنالو مسلمان نے کہا اچھا ٹھیک ہے جیسے آپ کی مرضی اس کے جانے کے بعد جب مسلمان چکی کے کاموں سے فارغ ہوا تو حساب کا کھاتہ لیکر بیٹھ گیا اور حساب بنانے میں مصرف ہوگیا جساب بنانے کے دوران اس کو یاد آیا کہ فلاں دن دس روپے خرچ کئے تھے وہ نہیں لکھے ہیں تو اس نے حساب میں دس روپے لکھ دیئے اور حساب بنتا رہا دو دن بعد اس کا ہندو پارٹنر آیا اور اپنی مخصوس جگہ پر بیٹھ گیا اس کا پارٹنر حساب کا رجسٹر اٹھا لایا اور اس سے کہا لو جی حساب مکمل ہے ہندو کی نگاہ اسی دروازے پر تھی اب وہ کیا دیکھتا ہے کہ چونٹیاں گندم کے دانے واپس چکی میں لارہی ہیں تو اس نے اپنے پارٹنر سے کہا حساب واپس رکھ دو ہم پھر سے پارٹنر ہیں ہماری برکت واپس آگئی ہے : یہ ہے ایمانداری کا نتیجہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے