بلوچستان عوامی پارٹی کی تشکیل، منشور کا اعلان بعد میں ہو گا

بلوچستان میں مسلم لیگ نواز اور مسلم لیگ ق کے منحرف اراکین نے مل کر بلوچستان عوامی پارٹی کے نام سے نئی سیاسی جماعت کے قیام کا اعلان کیا ہے۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبد القدوس بزنجو اوران کے کابینہ کے افراد کی موجودگی میں نئی جماعت کے قیام کا اعلان جمعرات کو وزیر اعلیٰ سیکریٹیریٹ میں کیا گیا۔

اس جماعت کے بارے میں انوار کاکڑ کا کہنا تھا کہ یہ پارٹی بلوچستان کی سیاسی ایلیٹ اور عوام کا امتزاج ہے۔

بی بی سی اردو کے نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق جماعت کے نام کا اعلان سابق سینیٹر سعید احمد ہاشمی نے کیا جن کا تعلق ق لیگ سے رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ یہ سیاسی جماعت بنا رہے ہیں وہ مختلف ادوار میں مختلف سیاسی جماعتوں سے وابستہ رہے ہیں۔

بلوچستان میں نئی سیاسی پارٹی کا اعلان

انھوں نے کہا کہ پچھلے چند ماہ کے دوران بلوچستان میں بعض رونما ہونے والے واقعات نے ہم سب دوستوں کو مجبور کیا کہ ایک نئی پارٹی تشکیل دیں۔

سعید احمد ہاشمی نے کہا کہ ہم اس فورم سے نہ صرف آئندہ کا الیکشن لڑیں گے بلکہ اسی فورم سے بلوچستان کے آئینی حقوق کے لیے جدوجہد کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ پارٹی کے نام کے حوالے سے نوجوانوں کی رائے کو اہمیت دی گئی۔

انھوں نے بتایا کہ پارٹی کے تنظیمی ڈھانچے اور منشور پر ہمارے کچھ ساتھی کام کررہے ہیں۔ اپریل کے آخر میں یا مئی کے آغاز میں پارٹی کے جنرل کونسل کا اجلاس ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ جنرل کونسل کے اجلاس میں پارٹی کی منشور کی منظوری کے علاوہ عہدیداروں کا انتخاب بھی عمل لایا جائے گا۔ اس جنرل کونسل کے بعد الیکشن کمیشن میں پارٹی کو رجسٹر کیا جائے گا۔

سینیٹر انوار الحق کاکڑ کو پارٹی کے مرکزی جبکہ سابق صوبائی وزیر میر شعیب نوشیروانی کو صوبائی سطح پر عبوری ترجمان مقرر کیا گیا۔

اس موقع پر بات کرتے ہوئے سینیٹر انوار الحق کاکڑ نے نئی پارٹی کے قیام کو بلوچستان کے لیے ایک نیا دن قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہاں ایسا سیاسی گلدستہ بننے جارہا ہے جس میں یوسف عزیزمگسی، میر غوث بخش بزنجو، خان آف قلات اور نواب خیر بخش مری سے جڑے ہوئے لوگ شامل ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ جماعت بلوچستان میں وفاق کے لیے ایک حقیقی پارٹنر کے طور پر ابھر کر سامنے آئے گی۔ ‘میرے خیال میں اب بلوچستان سے بلیک میلنگ کی آواز نہیں بلکہ ایک ایسی صدا ابھرے گی جو کہ ایک بچے کی اپنے ماں کی طرف یا خاندان کے سربراہ کی طرف جاتی ہے۔’

ان کا کہنا تھا کہ وفاق میں کسی بھی جماعت کی حکومت ہو اس کا احترام کیا جائے گا لیکن بلوچستان کے سیاسی اور معاشی حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

اس نئی پارٹی کی تشکیل کے اہم محرکین میں بلوچستان اسمبلی میں ن لیگ کے منحرف اراکین کے علاوہ ق لیگ کے اراکین بھی شامل ہیں۔

ان میں سے اکثر اس پریس کانفرنس میں موجود تھے لیکن اس پریس کانفرنس میں انھوں نے جماعت میں شمولیت کا اعلان نہیں کیا۔

ایک سوال پر سعید ہاشمی نے کہا کہ بلوچستان سے جو آزاد سینیٹر کامیاب ہوگئے ہیں وہ اس پارٹی کا حصہ ہیں جبکہ وزیر اعلیٰ اور ان کے کابینہ کے اراکین کی یہاں موجودگی اور ان کی خاموشی کو نیم رضا مندی سمجھا جائے۔

تاہم انوار الحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان اور ان کی کابینہ کے اراکین نے آئندہ اسی پلیٹ فارم سے جدوجہد کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ ’ان کا یہاں بیھٹنے کا مقصد یہ تاثر دینا تھا کہ وہ اس جماعت کا حصہ ہوں گے۔‘

اس پریس کانفرنس میں بعض ایسے نوجوان قبائلی رہنما اورشخصیات بھی موجود موجود تھیں جن کے والدین مختلف حکومتوں کا حصہ رہے ہیں۔

صحافی کی جانب سے یہ تاثر دیے جانے کے بعد کہ یہ جماعت اسٹیبلشمنٹ کی مرضی کے تحت بنی تو پارٹی کے صوبائی ترجمان سے سوال پوچھنے والے سے استفسار کیا کہ کیا انڈیا کی سٹیمبلشمنٹ؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے