بس بہت ہوگیا: پاک فوج کے ترجمان نے ایسی بات کہہ دی کہ امریکہ اب پاکستان سے ڈومور کا مطالبہ کرنے سے پہلے ہزار بار سوچے گا

راولپنڈی (مانیٹرنگ ڈیسک ) پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ افغانستان کی جنگ اب امریکا اور اتحادیوں کو لڑنی ہے، ہم پر افغانستان کی جنگ مسلط کی گئی،ہم دہشتگردوں کے ٹھکانے ختم کردیے ، افغانستان بھی ٹی ٹی پی کا خاتمہ کرے، پاکستان سے کابل حملے کیلئے سہولتکاری کیسے ہوسکتی ہے؟ پاکستان سے کوئی دہشتگرد ہزاروں میل کابل پرکیسے حملہ کرسکتاہے؟ایسے بیانات دو اتحادیوں کے تعلقات خراب کرسکتے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے اپنے بیان میں کہاکہ ہم پردہشتگردی کیخلاف افغانستان کی جنگ مسلط کی گئی۔پاکستان نے ہمیشہ افغانستان سے تعاون کرتارہاہے۔پاکستان اور امریکا کے بڑے اچھے تعلقات رہے ہیں۔پاکستان عسکری سازوسامان امریکا سے خریدتا ہے۔پاک امریکا تعلقات میں اتارچڑھاؤکوئی نئی بات نہیں ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ ہمیں امریکا سے امداد نہیں بلکہ اعتماد چاہیے۔انہوں نے کہاکہ ہمارے نیوکلیئراثاثے محفوظ ہیں جس کا امریکا خود اعتراف کرچکاہے۔ایٹمی اثاثے محفوظ ہاتھوں میں ہیں۔انہوں نے کہا کہ اب امریکا اور ان کے اتحادیوں کوافغانستان کی جنگ لڑنی ہے۔پاکستان نے بہت کرلیااب امریکا اور ان کے اتحادیوں کی باری ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشتگردی کیخلاف جو کام کیا وہ کسی نے نہیں کیا ہے۔پاکستان جیسی کس نے جنگ لڑی ہے؟ پاک افواج نے دہشتگردوں کیخلاف کاروائیاں کیں۔ہم دہشتگردوں کے ٹھکانے ختم کردیے ہیں ۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہاکہ اب افغانستان بھی ٹی ٹی پی کا خاتمہ کرے۔کچھ معاملات میں افغان فوج کے پاس مطلوبہ صلاحیت موجو د نہیں ہے۔بیرونی قوتوں کے آنے سے افغانستان کے معاملات خراب ہوئے۔افغان پناہ گزینوں کی واپسی سے حالات اچھے اور دہشتگردی کیلئے سہولت کاری ختم ہوجائے گی۔انہوں نے کہا کہ

پاکستان نے امریکا سے بھرپور تعاون کیا۔نائن الیون کے بعد پاکستان اور امریکا کا تعاون رہا۔امریکا نے دفاعی سازوسامان اور فنڈز بھی دیے۔کیا القاعدہ کو پاکستان کے بغیر شکست دی جاسکتی تھی؟ انہوں نے واضح کیاکہ پاکستان سے کوئی دہشتگرد ہزاروں میل کابل پرکیسے حملہ کرسکتاہے؟ پاکستان سے کابل حملے کیلئے سہولتکاری کیسے کرسکتاہے۔ایسے بیانات دو اتحادیوں کے تعلقات خراب کریں گے۔ترجمان پاک فوج نے کہاکہ 2017ء میں بھارت نے سب سے زیادہ ایل اوسی پرسیزفائر معاہدے کی خلاف ورزی کی ۔بھارت آزادکشمیر میں معصوم شہریوں کو نشانہ بنا رہاہے۔مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی جدوجہد میں تیزی آئی ہے۔ہم جوابی کاروائی میں بھارتی چوکیوں کو نشانہ بناتے ہیں۔کیونکہ ایل اوسی پردوسری جانب بھی ہمارے کشمیری بھائی آباد ہیں۔ کیا القاعدہ کو پاکستان کے بغیر شکست دی جاسکتی تھی؟ انہوں نے واضح کیاکہ پاکستان سے کوئی دہشتگرد ہزاروں میل کابل پرکیسے حملہ کرسکتاہے؟ پاکستان سے کابل حملے کیلئے سہولتکاری کیسے کرسکتاہے۔ایسے بیانات دو اتحادیوں کے تعلقات خراب کریں گے۔ترجمان پاک فوج نے کہاکہ 2017ء میں بھارت نے سب سے زیادہ ایل اوسی پرسیزفائر معاہدے کی خلاف ورزی کی ۔بھارت آزادکشمیر میں معصوم شہریوں کو نشانہ بنا رہاہے۔مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی جدوجہد میں تیزی آئی ہے۔ہم جوابی کاروائی میں بھارتی چوکیوں کو نشانہ بناتے ہیں۔کیونکہ ایل اوسی پردوسری جانب بھی ہمارے کشمیری بھائی آباد ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے