بادشاہ ہو یا فقیر سب کا انجام ایک

بادشاہ ہو یا فقیر سب کا انجام ایک ۔۔۔۔۔ حضرت شیخ سعدی کی سبق آموز حکایت ملاحظہ کیجیے

لاہور (ویب ڈیسک ) کہتے ہیں کہ ایک بادشاہ بڑھا پے کی عمر کو پہنچ گیا تھا۔ اسی زمانے میں اسے ایک سخت مرض نے آ پکڑا جس کے باعث وہ اپنی زندگی سے مایوس ہو گیا اور یہ تمنا کرنے لگا کہ،

موت کا فرشتہ جلد آئے اور اسے ان تکلیفوں سے چھڑوا لے۔ انہی ایام میں میدان جنگ سے ایک سپاہی نے اس کی خدمت میں حاضر ہو کر اسے یہ خوشخبری سنائی کہ حضور کے اقبال کی یاوری سے ہماری فوج نے دشمن کو شکست دے کر فلاں علاقے پر قبضہ کر لیا اور اس علاقے کے باشندے سچے دل سے حضور کے فرمانبردار بن گئے۔ بادشاہ نے یہ خوشخبری افسردہ ہو کر سنی اور پھر آہ کھینچ کر بولا، یہ خوشخبری میرے لیے نہیں بلکہ میرے دشمنوں کے لیے ہے۔ یعنی ان کے لیے جو میری جگہ زمام اقتدار سنبھالنے کے لیے میرے مرنے کی دعائیں مانگ رہے ہیں۔ تمام عمر اس امید میں گزاری ہے کبھی تو پورا میرے دل کا مدّعا ہو گا ہوئی ہے آج اگر آرزو میری پوری تو دیکھتا ہوں کہ یہ سازبے صدا ہو گا حضرت سعدیؒ نے اس حکایت میں انسان کو اس کی آرزوؤں کے انجام سے آگاہ کیا ہے۔ انسان کیسا بھی صاحب اقتدار بن جائے اس کا انجام فنا ہے۔ موت مقررہ وقت پر اس کے دروازے پر دستک دے گئی اور اسے اپنا تمام سازو سامان چھوڑ کر اس دنیا سے رخصت ہونا پڑے گا اور اس وقت وہ محسوس کرے گا کہ،

جن آرزوؤں اور تمناؤں کو اس نے زندگی کا مقصد وحید بنا لیا تھا ان کی حیثیت کم قیمت کھلونوں سے زیادہ نہیں۔ ایک اور حکایت ملاحظہ کریں: ایک شیر بڑھاپے کی وجہ سے کمزور ہو گیا اور چلنے پھرنے سے معذور ہو گیا۔ بھوک سے جب برا حال ہوا تو کسی لومڑی سے مشورہ کیا۔ اس نے کہا۔” فکر نہ کرو، میں اس کا بندوبست کردوں گا۔”یہ کہہ کر لومڑی نے پورے جنگل میں مشہور کر دیا کہ شیر بہت بیمار ہے اور بچنے کی کوئی امید نہیں ہے۔یہ خبر سنتے ہی جنگل کے جانور اس کی عیادت کو آنے لگے۔ شیر غار میں سر جھکائے پڑا رہتا اور عیادت کے لیے آنے والے جانوروں کا شکار کرکے اپنی بھوک مٹاتا رہتا۔ایک دن لومڑی شیر کا حال احوال پوچھنے کے لیے آئی اور غار کے دہانے پر کھڑی ہو گئی۔ اتفاقاً اس دن کوئی جانور نہ آیا تھا جس کی وجہ سے شیر بھوکا تھا۔ اس نے لومڑی سے کہا۔” باہر کیوں کھڑی ہو، اندر آؤ اور مجھے جنگل کا حال احوال سناؤ۔”لومڑی نے چالاکی سے جواب دیا۔” نہیں میں اندر نہیں آ سکتی۔ میں یہاں باہر سے آنے والے پنجوں کے نشان دیکھ رہی ہوں لیکن واپسی کے نہیں۔” (س)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے