ایٹمی جنگ کی صورت میں دنیا کی سب سے محفوظ جگہ کون سی ہے؟

کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ اگردنیا میں ایٹمی جنگ چھڑ گئی تو سب سے محفوظ جگہ کون سی ہو گی؟ روسیوں کو یقین ہے کہ تیسری جنگِ عظیم کسی بھی لمحہ شروع ہوسکتی ہے اورانہوں نے ابھی سے بنکربنا کران میں روزمرہ کی اشیاء زخیرہ کرنا شروع کردیا ہے-

لیکن ایسی تیاری صرف امیرترین افراد ہی کر سکتے ہیں، تو پھرعام آدمی ایسے حالات میں کیا کرے؟ یہ سوال جب مشہور سائٹ Quora پر پوچھا گیا تواکثرلوگ ایک بات پرمتفق نظرآئے کہ روس اورامریکہ کی ایٹمی جنگ میں دونوں ممالک سمیت کئی یورپی ممالک بھی بالکل تباہ ہوجائیں گے اورتابکاراوربنجرزمیں میں‌ تبدیل ہو جائیں گے- زندہ بچ جانے والے لوگوں کو زندہ رہنے کیلیئے مسلسل ایک دوسرے کے ساتھ لڑنا پڑیگا-

البتہ کچھ لوگوں کے مطابق نیوزی لینڈ کے جنوبی جزائیر ایسے حالات میں‌ محفوظ رہنے کے لیئے بتہریں مقام ثابت ہو سکتے اور اس کی بڑی وجہ ان کی باقی دنیا سے دوری ہے- زیادہ دوری کی وجہ سے یہ علاقہ ایٹمی دھماکوں کے اثرات سے بھی محفوظ رہے گا- ان جزائر کے محفوظ ہونے کی ایک اور بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ جنگی حکمتِ عملی میں اس علاقہ کی کوئی اہمیت نہیں ہے اس لیئے یہاں حملہ ہونے کی توقع بھی انتہائی کم ہے-

پیٹربسکروِل جو کہ ایک استاد ہیں کا بھی یہی ماننا ہے کہ یہ جزائر ان علاقوں سے بہت دور ہیں جہاں جنگ لڑے جانے کے امکانات ہیں، یہاں‌ آبادی بھی کم ہے، زمین زرخیز ہے اورتازہ پانی بھی وافرمقدارمیں‌ ہے- نیوزی لینڈ کے بعد بہت سے لوگوں کے مطابق آسٹریلیا کا شہر پرتھ بھی ایٹمی جنگ سے محفوظ رہنے کیلیئے اچھی جگہ ہے کیونکہ یہ بھی دنیا کے سب سے دور دراز علاقوں میں سے ایک ہے-

ایٹمی جنگ سے محفوظ رہنے کے معاملہ پرطانوی اخبار ‘گارڈین’ کا کہنا ہے کہ جنوبی بحرِ اوقیانوس میں واقع ایسٹر آئیلینڈ جنگ کے اثرات سے محفوظ رہنے کی بہترین جگہ ہے، یہ جزیرہ جنوبی امریکہ کے ساحلِ سمندر سے 2000 میل کے فاصلہ پر ہے- اگر ایسٹر جزیرہ کسی کو پسند نہ آئے تو وہ مارشل جزائر کے علاقہ کرباتی جا سکتا ہے-
لیکن گارڈین نے اس سوال کا جواب حاصل کرنے کی غرض سے جو سافٹ ویئر بنایا تھا اس کے مطابق تیسری جنگِ عظیم یا ایٹمی جنگ کی صورت میں سب سے محفوظ علاقہ انٹارکٹیکا ہے-

دنیا کی آبادی کا زیادہ حصہ شمال میں رہتا ہے اورایٹمی جنگ کے اثرات کا سب سے زیادہ سامنا اسی آبادی کوہی کرنا پڑیگا- اگر جنگ میں‌ ہائیڈروجن بم کا استعمال کیا گیا تو یہ 10 میل کے دائرہ میں موجود ہر چیز کو تہس نہس کر دیگا-

دھماکہ کی لہروں سے عمارات تباہ ہوجائیں گی، ایک خاص دائرہ کی حدود میں موجود ہر جاندار کا جسم پگھل جائیگا، درختوں‌ کو آگ لگ جائیگی اور جو لوگ بچ جائیں‌ گے وہ پیچھے رہ جانے والی تابکاری کا شکار ہو جائیں گے-

1970ء کی دہائی میں آفس آف ٹیکنالوجی نے امریکی کانگریس کو ایک رپورٹ جمع کروائی جس کا نام ‘جنگ کے اثرات’ تھا، اس رپورٹ میں ایٹمی جنگ کے نتیجہ میں‌ہونے والے ہر ممکنہ نقصان کا تخمینہ تھا- اس رپورٹ میں ثابت کیا گیا تھا ایٹمی جنگ کی صورت میں امریکہ کی 70 فیصد آبادی ہلاک ہو جائیگی-

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے