’اگر تم شہید ہوجاﺅ تو۔۔۔‘ طیب اردگان نے روتی ہوئی چھوٹی سی بچی کو ایسی بات کہہ دی کہ دنیا بھر میں ہنگامہ برپاہوگیا

’اگر تم شہید ہوجاﺅ تو۔۔۔‘ طیب اردگان نے روتی ہوئی چھوٹی سی بچی کو ایسی بات کہہ دی کہ دنیا بھر میں ہنگامہ برپاہوگیا گزشتہ روز ترک صدر رجب طیب اردگان کی سیاسی جماعت ’اے کے پارٹی‘ کا ایک اجلاس ہوا جس کی لائیو کوریج کی جاتی رہی۔ اس دوران فوجی وردی میں ملبوس ایک بچی سٹیج پر آئی جو رو رہی تھی۔ اس بچی سے رجب طیب اردگان نے ایسی بات کہہ دی کہ دنیا بھر میں ہنگامہ برپا ہو گیا ہے۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق پہلے تو ترک صدر نے بچی کو چپ کرانے کی کوشش کی، اسے پیار کیا اور اس کے گال پر بوسہ دیا اور پھر ساتھ ہی اسے کہہ دیا کہ ”اگر تم شہید ہو گئیں تو ہم تمہیں بہت عزت و تکریم دیں گے اور ملک کا پرچم سرنگوں کریں گے، انشاءاللہ۔“

طیب اردگان نے 5سالہ بچی سے مزید کہا کہ ”دیکھو، یہاں ہمارے سامنے بھی کئی فوجی بیٹھے ہوئے ہیں، ہمارے فوجی کبھی روتے نہیں ہیں۔“رجب طیب اردگان کے یہ الفاظ ٹی وی پر نشر ہونے کی دیر تھی کہ ان پر شدید تنقید شروع ہو گئی۔ اردگان کے ان الفاظ کی مذمت کرتے ہوئے ان کے ناقدین کا کہنا تھا کہ ”پراپیگنڈہ کے مقصد کے لیے بچوں کا اس طرح کا استعمال داعش کے شدت پسند کرتے آئے ہیں جو اب رجب طیب اردگان نے بھی شروع کر دیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے