اچھا اور سستا انصاف فراہم کرنے کی کوشش کررہے ہیں، چیف جسٹس

وفاقی دارالحکومت میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ اس ملک کی بقا قانون کی حکمرانی میں ہے، جس پر سب کا اتفاق ہے، تاہم قانون کی عملداری کے لیے مضبوط جوڈیشل سسٹم کا ہونا بھی ضروری ہے۔

اپنے خطاب میں چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’ہم نے معاشرے سے نا انصافی کے خاتمے کا آغاز کرنے کے لیے بنیاد رکھ دی ہے تاہم یہ آپ دوستوں پر منحصر ہے کہ آپ اس پر کس طرح عمارت قائم کر سکتے ہیں‘۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے دورانِ تقریب ایک پیغام پڑھ کر سنایا جس میں لکھا تھا کہ ’مجھے پینے کا صاف پانی چاہیے، مجھے صاف ہوا اور صاف ماحول چاہیے، مجھے خالص دودھ چاہیے، مجھے مردہ جانوروں کا گوشت نہیں کھانا، مجھے کینسر اور ہیپاٹائٹس جیسی مہلک بیماریوں سے تحفظ چاہیے، مجھے میری فصلوں کی جائز قیمت ملنی چاہیے، مجھے ہسپتالوں میں مفت علاج چاہیے، مجھے سستا اور معیاری انصاف ملنا چاہیے‘۔

مذکورہ پیغام کو پڑھنے کے بعد چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ یہ تمام چیزیں عوام کو فراہم کرنا ہی ہماری جدوجہد ہے۔

تقریب کے دوران خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ میرا یہ مقصد تھا کہ ہم عوام کی خدمت کریں لیکن ہم اپنے کام کی سمت سے ہٹ گئے، تاہم ہمارے پاس ابھی بھی وقت ہے۔

انہوں نے وکلا اور جج صاحبان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ آپ محبت کے ساتھ ان انسانی حقوق سے جڑے معاشرتی عوامل کو حل کرنے کے لیے میرے فوج بنیں۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ ملک میں قانون کی حکمرانی ہونی چاہیے، جبکہ ججز اور وکلا کو کسی سے محاذ آرائی نہیں کرنی چاہیے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے ہمیشہ میرا ساتھ دیا، میں نے معاشرے کی لعنت کے خلاف جنگ شروع کر رکھی ہے۔

چیف جسٹس نے شرکا سے خطاب میں بھرپور انداز میں خوش آمدید کہنے پر اظہارِ تشکر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں تقریب میں غیر معمولی عزت سے نوازا گیا۔

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اب تک 43 ریفرنسز نمٹا چکے ہیں، تاہم جون تک تمام ریفرنسز کو نمٹا دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ایک قاضی کے لیے تین چیزیں زہرِ قاتل ہیں جن میں ڈر، مصلحت اور مفاد شامل ہیں، لہٰذا جج صاحبان کو نتائج سے قطع نظر ہو کر عدالتی فیصلوں کو میرٹ کی بنیاد پر کرنے ہیں۔

چیف جسٹس نے نوجوان وکلا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو محنت کرتے ہوئے لطیف کھوسہ اور اعتزاز احسن جیسے نامور اور صفت اول کے وکلا کی فہرست میں شامل ہونا چاہیے اور اگر آپ سخت محنت کریں گے تو یہ موقع آپ سے کوئی نہیں چھین سکتا۔

چیف جسٹس نے سپریم کورٹ میں بطور وکیل تقرری کی 12 سال پریکٹس کی مدت کی شرط کو کم کرتے ہوئے اسے 7 سال تک مقرر کرنے کا اعلان کیا۔

انہوں نے کہا کہ اس مدت میں کمی کی وجہ سے وہ ماہر وکلا جو اس شرط کی وجہ سے سپریم کورٹ نہیں آسکتے، وہ اب سپریم کورٹ میں بھی وکالت کے فرائض انجام دے سکیں گے۔

خطاب کے اختتام پر چیف جسٹس نے جج اور وکلا کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ آپ کو سخت محنت کے ساتھ اپنے فرائض کی انجام دہی کرنی ہے اور معاشرے کی لعنت کو ختم کرنے کے لیے جو بیڑا ہم نے اٹھایا اس میں آپ کی مدد درکار ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے