آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ پاناما کیس سے فوج کا کوئی تعلق نہیں ہے

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ پاناما کیس سے فوج کا کوئی تعلق نہیں ہے

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ پاناما کیس سے فوج کا کوئی تعلق نہیں ہے اور یہ معاملہ عدالتیں چلا رہی ہیں، اندازے لگانے والے اندازے لگاتے رہیں۔پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر)کی جانب سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق سینیٹ اور قومی اسمبلی کی دفاعی کمیٹیوں کے ارکان پر مشتمل وفد نے سینیٹر عبدالقیوم کی قیادت میں جی ایچ کیو

راولپنڈی کا دورہ کیا۔وفد نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید سے بھی ملاقات کی اور یاد گارِ شہداء پر پھول چڑھائے،اس موقع پر کمیٹی ارکان کو سرحدوں کی صورتحال سمیت سیکورٹی امور پر تفصیلی بریفنگ بھی دی گئی۔ذرائع کے مطابق آرمی چیف نے قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے ارکان سے گفتگو میں کہا ہے کہ سابق وزیراعظم سے بھی اچھے تعلقات تھے اور موجودہ سےبھی ہیں۔ذرائع نے آرمی چیف کے حوالے سے بتایا کہ انہوں نے این اے 120 میں کلثوم نواز کی جیت پر شہباز شریف کو ٹیلیفون کیا اور مبارک باد دی۔آرمی چیف کا کہنا تھا کہ وزیر خارجہ کی پوزیشن اہم ہوتی ہے کیوں کہ معاملات انتہائی پیچیدہ ہوتے ہیں، چار سال تک وزیر خارجہ نہ ہونے سے نقصان ہوا، وزارت خارجہ کی سربراہی میں خلا نہیں ہونا چاہیے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ فوجی عدالتیں اس لیے بنانا پڑیں کیوں کہ بڑے بڑے دہشت گرد چھوٹ جاتے ہیں، عدالت نے بینظیر بھٹو قتل کیس میں جیٹ بلیک دہشت گردوں کو چھوڑ دیا۔ذرائع کے مطابق جنرل قمر جاوید باجوہ نے دفاعی بجٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دفاعی بجٹ کل بجٹ کا 18فیصد ہے جبکہ مہنگائی بڑھ چکی ہے، نئے ہتھیار خریدنے میں بہت زیادہ لاگت آتی ہے۔آرمی چیف نے کہا کہ فاٹا کےخیبرپختونخوا میں انضمام کا معاملہ سیاسی سیٹ اپ نے دیکھنا ہے، تاہم فاٹا کے عوام کو صوبائیت کا احساس دلانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ فاٹا ریفارمز ناگزیر ہیں اور وہاں انتظامی اقدامات جلد کرنے کی ضرورت ہے۔آرمی چیف نے مزید کہا کہ بھارت اور افغانستان سے بات چیت کے لیے تیار ہیں لیکن تالی دونوں ہاتھوں سے بجنی چاہیے۔

You May Also Like

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے