آئندہ 48گھنٹوں میں کیا ہونیوالا ہے؟

اسلام آباد (نیو زڈیسک)محکمہ موسمیات نے کراچی میں کل درجہ حرارت 43 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچے کا امکان ظاہر کیا ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق کراچی میں آئندہ 2 روز میں موسم شدید گرم اور خشک رہے گا۔محکمہ موسمیات کے حکام نے بتایا کہ کراچی میں جمعرات کے روز درجہ حرارت 43 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچے کا امکان ہے

جب کہ جمعہ کے روز کراچی کا درجہ حرارت 42 ڈگری تک جا سکتا ہے۔محکمہ موسمیات کے حکام کا کہنا ہے کہ کراچی میں کل ہوا میں نمی کا تناسب صبح کے اوقات میں 65 سے 75 فیصد جب کہ شام کے وقت 25 سے 35 فیصد کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق ہفتہ سے کراچی کے موسم کا دوبارہ معمول کے مطابق آنے کے امکانات ہیں۔موسم گرما کے لیے ضروری ہدایات:اگر ہوا نہ ہو تو شہری لو لگنے، ہیٹ اسٹروک اور پانی کی کمی کا شکار ہوسکتے ہیں۔ہیٹ اسٹروک اُس وقت ہوتا ہے جب انسانی جسم اندرونی درجہ حرارت کو کم رکھنے کے لیے تیزی سے پسینہ خارج کرتا ہے تاکہ جسم کو باہر سے ٹھنڈک پہنچائی جاسکے۔لیکن پسینے کے اخراج کی صورت میں پیدا ہونے والی پانی کی اندرونی کمی کو فوراً پورا نہ کیا جائے تو پانی اور نمکیات کی کمی کے باعث جسم کا قدرتی کولنگ سسٹم ناکارہ ہوجاتا ہے اور انسان تھکاوٹ، سرسام یا لو لگ جانے جیسے جان لیوا امراض کا شکار ہوسکتا ہے۔ان مہلک بیماریوں سے بچنے کےلیے طبی ماہرین کا مشورہ ہے کہ بلا ضرورت سائے دار جگہ سے مت نکلیں، اگر مجبوری میں باہر نکلنا پڑے تو احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔باہر نکلتے وقت سر اور کندھے پر گیلا کپڑا رکھیں اور ہلکے رنگوں والے کپٹرے پہنیں، جہاں تک ممکن ہو رش سے دور اور سایہ دار مقام پر رہیں۔سورج سے بچنے کے لیے چھتری کا استعمال ضرور کریں۔پانی ہر وقت اپنے ساتھ رکھیں اور وقفے وقفے سے پیتے رہیں اور ساتھ ہی اگر او آر ایس ملا لیں تو زیادہ بہتر ہوگا تاکہ جسم میں نمکیات اور پانی کی کمی با آسانی پوری ہو جائے۔کھانے میں گوشت کے بجائے تازہ سبزیوں اور دالوں کا استعمال کریں تا کہ گرم غذا سے جسم کے اندرونی درجہ حرارت کو مزید گرم ہونے سے بچایا جا سکے۔شدید گرمی میں 4 سال سے کم عمر بچے اور 60 سال سے زائد افراد کو خصوصی احتیاط کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ڈاکٹرز کہتے ہیں کہ کمزور مدافعتی نظام رکھنے والے افراد، ذیابطیس یا شوگر، امراض قلب اور ہائپر ٹینشن یا فشار خون کی زیادتی کے مریض شدید گرمی میں باہر نا نکلیں۔وہ افراد جو دھوپ میں کام کرتے ہیں انہیں بھی محتاط رہنے کی ضرورت ہے اور انہیں مسلسل اپنے جسم پر پانی ڈالتے رہنا چاہیے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے