انڈیا پاکستان میں میڈیا جنگ جاری

انڈیا میں کنٹرول لائن کے پار شدت پسندوں کے لانچنگ پیڈ پر جمعرات کے مبینہ سرجیکل آپریشن کے بعد انڈین میڈیا میں اس آپریشن کے بارے میں طرح طرح کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔

بعض اخبارات اور چینلوں نے بتایا ہے کہ اس آپریشن میں سپیشل فورس کے کتنے کمانڈو شامل تھے۔ وہ کنٹرول لائن کے اس پار کتنے کلو میٹر تک اندر گئے۔ کس طرح اور کب اس کی منصوبہ بندی کی گئی۔ الگ الگ چینلوں اور اخباروں میں الگ الگ قسم کے حقائق اور واقعات بیان کیے جا رہے ہیں۔

دوسری طرف پاکستان میں میڈیا یہ بتانے کی کوشش کر رہا ہے کہ کس طرح پاکستانی فوجیوں نے انڈیا کی کارروائی کا منہ توڑ جواب دیا اور کتنے انڈین فوجی وہیں ہلاک کر دیے۔ دلچسپ پہلو یہ ہے کہ انڈیا اور پاکستان دونوں کی افواج کے ابتدائی بیانات کے بعد ایسا کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے جس سے صورتحال مزید کشیدہ ہونے کا پتہ چلتا ہو۔

مبینہ آپریشن کے بعد انڈیا کی وزارت دفاع کی طرف سے کی گئی واحد پریس کانفرنس میں ڈی جی ایم او نے یہ بتایا کہ اس کارروائی کے بارے میں ان کے پاکستانی ہم منصب کو اطلاع دے دی گئی تھی۔ انھوں نے اس بات پر زور دے کر کہا کہ یہ ایک انسداد دہشت گردی کی کارروائی تھی اور اس کا مقصد بس یہیں تک محدود تھا۔

پاکستان نے اپنے ردعمل میں اس بات کی تردید کی کہ اس کے زیر انتظام علاقے میں کوئی سرجیکل آپریشن ہوا ہے۔ پاکستانی فوج کے اس بیان میں اسے سرحد پار فائرنگ اور جنگ بندی کی خلاف ورزی کا واقعہ قرار دیا گیا۔

کشمیر فوجتصویر کے کاپی رائٹEPE
Image captionموجودہ کشیدگی کشمیر کی بے چینی سے شروع ہوئی تھی۔ نوے کشمیری نوجوانوں کی ہلاکت، دس ہزار سے زیادہ لوگوں کے زخمی ہونے اور ہزاروں نوجوانوں کی گرفتاری کے بعد بھی یہ بے چینی ختم نہیں ہوگئی ہے

انڈیا اور پاکستان کے درمیان لائن آف کنٹرول پر اس وقت سخت نگرانی رکھی جا رہی ہے۔ لیکن ابھی تک فوج کی کوئی غیر معمولی نقل و حرکت محسوس نہیں کی گئی ہے۔ دونوں ملکوں کی سیاسی اور عسکری قیادت نے ابھی تک بہت حد تک پختگی اور ذمے داری کا ثبوت دیا ہے۔ اس ٹکراؤ میں دونوں ملکوں کی داخلی سیاست کا بہت بڑا دخل رہا ہے۔ حکومتیں خاموش ہیں لیکن میڈیا نے ایک متبادل جنگ چھیڑ رکھی ہے۔

کشیدگی کم کرنے کے لیے انڈیا اور پاکستان پر اب امریکہ اور دوسرے بڑے ملکوں کا دباؤ بڑھ رہا ہے۔ ابتدائی ہنگامہ آرائی کے بعد صورتحال میں ایک عبوری ٹھہراؤ نظر آ رہا ہے۔ یہی موقع ہے جب انڈیا کو اپنے زیر انتطام کشمیر کی بے چینی پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔ کشمیر کا مسئلہ امن و قانون کا نہیں ایک سیاسی مسئلہ ہے۔

موجودہ کشیدگی کشمیر کی بے چینی سے شروع ہوئی تھی۔ نوے کشمیری نوجوانوں کی ہلاکت، دس ہزار سے زیادہ لوگوں کے زخمی ہونے اور ہزاروں نوجوانوں کی گرفتاری کے بعد بھی یہ بے چینی ختم نہیں ہوگئی ہے۔ اس مسئلے کا سیاسی حل تلاش کرنا ہوگا۔ اور وہ صرف مذاکرات سے ہی ممکن ہے۔

You May Also Like

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے