انڈیا میں صحافی خوفزدہ

نیو یارک ٹائمز کی ایک کالم نگار نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ انڈیا کے ایک بزنس مین نے انھیں بتایا کہ انھوں نے ایسی کتابیں آن لائن یا انٹرنٹ سائٹ سے خریدنا بند کر دیا ہے جنھیں حکومت پسند نہیں کرتی۔

انھیں خدشہ ہے کہ حکومت ایسی کتابیں خریدنے والوں پر نظر رکھ رہی ہے۔ کالم نگار نے ایک دیگر بزنس مین کے حوالے سے لکھا ہے کہ اگر آپ کسی پارٹی میں جائیں اور وہاں بات چیت کے دوران حکومت کی پالیسیوں کے خلاف کوئی بات کہہ دیں تو عین ممکن ہے کہ آئندہ روز آپ کے دفتر پر انکم ٹیکس کے اہلکار دستک دے رہے ہوں۔

گذشتہ دنوں ملک کے ایک سینیئر صحافی ونود ورما کو دلی کے نواح میں ان کی رہائش گاہ سے اس طرح گرفتار کیا کیا جیسے کوئی بڑا دہشت گرد ہاتھ لگ گیا ہو۔ پولیس کا کہنا ہے کہ انھیں چھتیس گڑھ کے ایک وزیر سے جبری وصولی کے معاملے میں گرفتار کیا گیا ہے۔

جبکہ ونود ورما کا کہنا ہے کہ انھیں تفتیش کے دوران ایک وزیر کی ایک سیکس سی ڈی ملی تھی جس پر وہ کام کر رہے تھے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے ونود کے گھر سے پانچ سو سی ڈی بر آمد کی ہے۔ انھیں جبری وصولی نہیں فحش سی ڈی رکھنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔

ونود ورما حکومت کے سخت ناقدین میں سے ہیں اور وہ چھتیس گڑھ میں اس کمیٹی میں شامل تھے جس نے ریاست میں صحافیوں پر حکومت اور پولیس کی طرف سے پیش آنے والی مشکلات کی تحقیق کی تھی۔

گوری لنکیشتصویر کے کاپی رائٹFACEBOOK/GAURI LANKESH
Image captionگذشتہ دنوں انڈیا کی ‘بےباک’ اور نڈر خاتون صحافی گوری لنکیش کو قتل کر دیا گیا

کچھ دنوں پہلے ملک کی ایک معتبر ویب سائٹ ‘دی وائر’ نے بی جے پی کے صدر امت شاہ کے بیٹے کے کاروبار کے بارے میں ایک مضمون شائع کیا تھا کہ کس طرح ان کا کاروبار ایک مختصر عرصے میں پچاس ہزار روپے سے بڑھ کر 80 کروڑ روپے پر پہنچ گیا۔ ویب سائٹ کے خلاف 100 کروڑ روپے کے ہرجانے کا مقدمہ درج کیا گیا ہے اور ایک عدالت نے ویب سائٹ کو اس معاملے میں کچھ لکھنے سے روک دیا ہے۔

حال میں ایک اخبار کی مالک کی وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کے بعد اخبار کے ایک سینیئر ایڈیٹر کو اخبار سے ہٹا دیا گیا۔ ان کا کالم عموما حکومت کی پالیسیوں کے خلاف ہوتا تھا۔ اب اسے بند کر دیا گیا ہے۔ اس اخبارکی ویب سائٹ سے ملک میں مذہب، ذات اور نسل کی بنیاد پر نفرت پھیلانے والوں پر نظر رکھنے کے کے لیے ایک مائیکرو سائٹ بنائی گئی تھی۔ اب وہ بھی بند ہو گئی ہے۔

چند مہینے قبل ملک کے سرکردہ ٹی وی چینل این ڈی ٹی وی کے دفاتر پر ہندوستان کے تفتیشی ادارے سی بی آئی نے چھاپہ مارا تھا۔ اس چینل کو عموما غیر جانبدار مانا جاتا ہے۔ پچھلے دنوں راجستھان کی حکومت نے اسمبلی میں ایک بل پیش کیا ہے جس کی منظوری کے بعد صحافی سرکاری اہلکاروں، ارکان اسمبلی اور وزرا کے کسی مبینہ بدعنوانی یا بد انتطامی کے بارے میں حکومت کی پیشگی اجازت کے بغیرنہیں لکھ سکیں گے۔

اخبارات اور صحافی مسلسل دباؤ میں ہیں۔ نیویارک ٹائمز کی کالم نگارمیرا کامدار نے اپنے مضمون میں لکھا ہے کہ انھیں ایک ایڈیٹر نے بتایا کہ ان کے سبھی فون ٹیپ کیے جا رہے ہیں۔

مودی امیت شاہتصویر کے کاپی رائٹGETTY IMAGES
Image captionوزیر اعظم نریندر مودی اور امیت شاہ کی مخالفت سے زیادہ تر غیرجانب صحافی بھی کتراتے ہیں

بہت سے دانشور اور صحافی اب موبائل پر انکرپٹڈ پیغامات کے لیے پروٹان میل استعمال کرتے ہیں۔ اہم پیغامات کے لیے فون کے بجائے وٹس ایپ کا استعمال ہو رہا ہے۔ صحافت کے لیے یہ ایک مشکل گھڑی ہے۔

بیشتر ٹی وی چینلز اور اخبارات کارپوریٹ گھرانوں کے ہاتھوں میں ہیں۔ کچھ تو مودی حکومت کے حامی ہیں اور کچھ حکومت کی ناراضگی مول نہیں لینا چاہتے۔ ٹی وی چینلوں پر ایسے بحث ومباحثے اور خبریں تقریباً بند ہو چکی ہیں جن میں حکومت پر نکتہ چینی کی جاتی ہو۔ ٹی وی چیلز اور اخبارات ایک قدم اور آگے جا کر اپوزیشن مخالف ہو گئے ہیں۔

انڈیا میں یہ ایک ایسا دورہے جب حکومت پر وزیر اعظم نریندر مودی کی گرفت بہت مضوط ہے۔ ان کی کئی پالیسیوں کی ناکامی کے باوجود ان کی مقبولیت میں کمی نہیں آئی ہے۔

مودی ذاتی طور پر حکومت کا محور بنتے جا رہے ہیں۔ اپوزیشن کمزور ہے۔ مزاحمت اور احتجاج کے تمام راستے پہلے ہی مسدود کیے جا چکے ہیں۔ صحافت واحد ادارہ بچا ہے جواب بھی اپنے کچھ جرات مند اور قابل صحافیوں کے سبب حکومت کے لیے چیلنج بنا ہوا ہے۔ لیکن آزاد صحافیوں کے لیے مشکلیں اور خطرات بڑھتے جا رہے ہیں۔ گذشتہ کئی عشروں میں صحافی کبھی اتنے خوفزدہ نہیں ہوئے جتنے اس وقت ہیں۔

متعلقہ عنوانات

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے