امریکی بدمعاشی

پاکستانی فوج کے ساتھ امریکی بدمعاشی پاکستانی فوج کے ساتھ امریکی بدمعاشی

پاکستان کے سپاہ سالار قمر جاوید باجوہ نے کابل میں ہونے والی چیف آف ڈٰیفنس کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔۔

“پاکستان نے اپنی سرزمین سے دہشت گردوں کے تمام ٹھکانے ختم کر دیے ہیں۔ پاکستان کی سرزمین کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہو گی اور پاکستان بھی دوسرے ممالک سے ایسی ہی توقع رکھتا ہے”

یہ دعوی امریکہ سمیت اس خطے میں موجود کوئی اور مائی کا لال کر سکتا ہے؟

الٹا وہ تسلیم کرتے ہیں کہ افغانستان کے زیادہ تر علاقے پر طالبان کا کنٹرول ہے۔ افغانستان کا سابق صدر میڈیا پر آکر کہتا ہے کہ داعش کو امریکی ہیلی کاپٹرز میں لایا جاتا ہے۔

اور امریکی ڈھٹائی ملاحظہ کیجیے کہ وہ پاکستان کو دہشت گردوں کی مالی معاونت کرنے والے ممالک کی عالمی واچ لسٹ میں شامل کرانے کے لیے متحرک ہوگیا ہے۔

مجھے نہیں علم کہ امریکی تھنک ٹینک کیسے سوچتے ہیں۔ مجھے تو چند سادہ سی باتوں کا علم ہے کہ پاکستان کے خلاف تمام تر پراکسی جنگ، معاشی تباہی اور پابندیوں کے باؤجود ۔

پاک فوج کی جنگی طاقت کم ہونے کے بجائے بڑھی ہے۔
پاکستان پر چین اور روس کا انحصار بڑھا ہے۔
عوام میں پاک فوج کی سپورٹ پچھلے چند سالوں میں بڑھ گئی ہے اور پاکستان کی زرخرید میڈیا کی ایک عشرے سے جاری پاک فوج مخالف مہم پر پانی پھر چکا ہے۔
پاکستان کے خلاف کے پی کے، بلوچستان اور کراچی میں جنگ کرنے والوں کی آپریشنل قوت ختم کر دی گئی ہے۔

دنیا میں کون امریکہ کے اس دعوے کہ تسلیم کرے گا کہ ” پاک فوج نے تین ہزار حقانی بھیجے اور انہوں نے امریکہ کی ڈیڑھ لاکھ اور افغانستان کی دو لاکھ فوج کو دھول چٹا دی ” ۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟

امریکہ اپنی ناکامیوں کو تسلیم کرے، افغانستان افغانیوں کے حوالے کرے اور پاکستان کے بارے میں الٹے سیدھے خواب دیکھنا بند کرے۔ یہ خطہ خود بخود امن کا گہوارہ بن جائیگا ۔۔ ان شاءاللہ

پاکستان کے سپاہ سالار قمر جاوید باجوہ نے کابل میں ہونے والی چیف آف ڈٰیفنس کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔۔

“پاکستان نے اپنی سرزمین سے دہشت گردوں کے تمام ٹھکانے ختم کر دیے ہیں۔ پاکستان کی سرزمین کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہو گی اور پاکستان بھی دوسرے ممالک سے ایسی ہی توقع رکھتا ہے
یہ دعوی امریکہ سمیت اس خطے میں موجود کوئی اور مائی کا لال کر سکتا ہے؟

الٹا وہ تسلیم کرتے ہیں کہ افغانستان کے زیادہ تر علاقے پر طالبان کا کنٹرول ہے۔ افغانستان کا سابق صدر میڈیا پر آکر کہتا ہے کہ داعش کو امریکی ہیلی کاپٹرز میں لایا جاتا ہے۔

اور امریکی ڈھٹائی ملاحظہ کیجیے کہ وہ پاکستان کو دہشت گردوں کی مالی معاونت کرنے والے ممالک کی عالمی واچ لسٹ میں شامل کرانے کے لیے متحرک ہوگیا ہے۔

مجھے نہیں علم کہ امریکی تھنک ٹینک کیسے سوچتے ہیں۔ مجھے تو چند سادہ سی باتوں کا علم ہے کہ پاکستان کے خلاف تمام تر پراکسی جنگ، معاشی تباہی اور پابندیوں کے باؤجود ۔

پاک فوج کی جنگی طاقت کم ہونے کے بجائے بڑھی ہے۔
پاکستان پر چین اور روس کا انحصار بڑھا ہے۔
عوام میں پاک فوج کی سپورٹ پچھلے چند سالوں میں بڑھ گئی ہے اور پاکستان کی زرخرید میڈیا کی ایک عشرے سے جاری پاک فوج مخالف مہم پر پانی پھر چکا ہے۔
پاکستان کے خلاف کے پی کے، بلوچستان اور کراچی میں جنگ کرنے والوں کی آپریشنل قوت ختم کر دی گئی ہے۔

دنیا میں کون امریکہ کے اس دعوے کہ تسلیم کرے گا کہ ” پاک فوج نے تین ہزار حقانی بھیجے اور انہوں نے امریکہ کی ڈیڑھ لاکھ اور افغانستان کی دو لاکھ فوج کو دھول چٹا دی ” ۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟

امریکہ اپنی ناکامیوں کو تسلیم کرے، افغانستان افغانیوں کے حوالے کرے اور پاکستان کے بارے میں الٹے سیدھے خواب دیکھنا بند کرے۔ یہ خطہ خود بخود امن کا گہوارہ بن جائیگا ۔۔ ان شاءاللہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے