’امریکہ کے ہوتے ہوئے افغانستان میں دولتِ اسلامیہ کیسے نمودار ہوئی؟‘

سابق افغان صدر حامد کرزئی نے سوال اٹھایا ہے کہ امریکی فوج اور انٹیلیجنس کے ہوتے ہوئے کیسے افغانستان میں نام نہاد شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ چند سالوں میں اپنے قدم جمانے میں کامیاب ہوئی ہے؟

انھوں نے یہ بات آر ٹی کو ایک خصوصی انٹرویو میں کہی۔

اس انٹرویو میں انھوں نے یہ بھی سوال کیا کہ امریکہ جب سے افغانستان میں آیا ہے تو کیسے ملک میں شدت پسندی اور تشدد میں اضافہ ہوا؟

‘امریکہ تو افغانستان میں امن اور استحکام لانے کے لیے آیا تھا لیکن اب افغانستان میں زیادہ بدامنی اور عدم استحکام ہے۔ کیوں؟ ہمیں اس بات پر بات کرنی چاہیے۔’

انھوں نے مزید کہا کہ یہ بات صاف ہے کہ بمباری، قتل و غارت، جیلیں بھرنا اور افغانستان کے لوگوں کو ہراساں کرنا موثر نہیں رہا۔

حامد کرزئی نے کہا ‘گذشتہ چند سالوں میں دولت اسلامیہ افغانستان میں نمودار ہوئی ہے اور امریکہ کی فوج اور انٹیلیجنس ایجنسیوں کے ہوتے ہوئے کیسے ہوا؟ ہمیں یہ سوال پوچھنے کا حق ہے۔’

جب حامد کرزئی سے پوچھا گیا کہ کیا آپ کے خیال میں دولت اسلامیہ کو افغانستان میں امریکی فوجی اڈوں سے اسلحہ دیا جا رہا ہے تو انھوں نے کہا کہ بالکل۔

‘میرے پاس لوگ آتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ کیسے کسی نشان کے بغیر ہیلی کاپٹر اسلحے سمیت روزانہ اڑتے ہیں اور ایسا کسی مخصوص علاقے میں نہیں کیا جا رہا ہے بلکہ پورے افغانستان میں کیا جا رہا ہے۔’

دولت اسلامیہتصویر کے کاپی رائٹAFP

انھوں نے کہا کہ امریکی عملداری کا تو یہ حال ہے کہ جب امریکی وزیر دفاع جنرل میٹس افغانستان میں تھے تو وہ کابل کے ایئر پورٹ کو بھی محفوظ نہ بنا سکے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل بی بی سی اردو کو دیے جانے والے ایک خصوصی انٹرویو میں سابق افغان صدر نے کہا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی پالیسی میں افغانستان اور خطے کے لیے امن اور امید کا کوئی پیغام نہیں کیونکہ اس میں بات چیت اور قیام امن کی کوئی بات ہی نہیں ہے۔

صدر ٹرمپ کی افغانستان کے لیے نئی امریکی پالیسی اور شدت پسندوں کی پناہ گاہوں کے بارے میں تقریر پر حامد کرزئی کا کہنا تھا کہ امریکہ نے ایسا پہلی بار نہیں کہا۔

ٹرمپتصویر کے کاپی رائٹAFP
Image captionحامد کرزئی نے بی بی سی اردو کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی پالیسی میں افغانستان اور خطے کے لیے امن اور امید کا کوئی پیغام نہیں

ان کا کہنا تھا کہ ‘میں یہی چاہتا ہوں کہ پاکستان اور افغانستان آپس میں دو بھائیوں کی طرح بیٹھیں اور پاکستان سے یہ امید رکھتا ہوں کہ وہ اب اس سارے معاملے کو سمجھے اور افغانستان کے ساتھ دوستی اور تعاون بڑھائے۔’

افغان قیادت کی جانب سے پاکستان کے اندر شدت پسندوں کے خلاف امریکی کارروائی کی جانی چاہیے جیسے بیانات پر حامد کرزئی نے کہا کہ ‘نہیں، ہم نے کبھی نہیں کہا کہ پاکستان کے خلاف ملٹری ایکشن ہونا چاہیے، وہ ہم نہیں چاہتے’۔

‘ہم پاکستان کے ساتھ دوستی چاہتے ہیں لیکن پاکستان کو بھی افغانستان کے ساتھ ایک باعزت اور خود مختار ملک جیسا سلوک کرنا ہو گا’۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے