امریکہ پاکستان سے چاہتا کیا ہے؟

امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن پاکستان کے مختصر دورے پر اسلام آباد پہنچے جہاں وہ چار گھنٹے قیام کے بعد انڈیا کے لیے روانہ ہو گئے۔

ریکس ٹلرسن افغانستان کا دورہ کرنے کے بعد پاکستان پہنچے۔

کہا جا رہا تھا کہ ریکس ٹلرسن اپنے اس دورے کے دوران ’مخصوص‘ مطالبات بھی پاکستانی حکام کے سامنے رکھیں گے۔

آخر یہ مطالبات ہیں کیا اور امریکہ پاکستان سے چاہتا کیا ہے؟

بظاہر تو ایسا لگتا ہے کہ امریکہ کا پاکستان سے بنیادی مطالبہ دہشت گردوں کے خلاف مزید کارروائیاں کرنا اور شدت پسندوں کی پناہ گاہوں کو ختم کرنا ہے۔

جبکہ پاکستان پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ اس کی سر زمین پر شدت پسندوں کی پناہ گاہیں موجود نہیں ہیں اور ان کے خلاف پہلے ہی خاطر خواہ کارروائیاں کر رہا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دور صدارت میں جنوبی ایشیا کے بارے میں اپنے پہلے خطاب میں ہی پاکستان کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ ‘اب پاکستان میں دہشت گردوں کی قائم پناہ گاہوں کے معاملے پر مزید خاموش نہیں رہ سکتا۔’

صدر ٹرمپ نے اپنی انتظامیہ کی پالیسی کے بارے میں وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان اور افغانستان کے معاملے میں امریکہ کے اہداف بالکل واضح ہیں اور وہ چاہتا ہے کہ اس خطے میں دہشت گردوں اور ان کی پناہ گاہوں کا صفایا ہو۔

ان کے مطابق 20 غیر ملکی دہشت گرد تنظیمیں پاکستان اور افغانستان میں کام کر رہی ہیں جو کہ دنیا میں کسی بھی جگہ سے زیادہ ہیں۔

ریکس ٹلرسنتصویر کے کاپی رائٹGETTY IMAGES

صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ سے شراکت داری پاکستان کے لیے بہت سود مند ثابت ہوگی لیکن اگر وہ مسلسل دہشت گردوں کا ساتھ دے گا تو اس کے لیے مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔

امریکی صدر کا پاکستان کے بارے میں کہنا ہے کہ ‘ہم پاکستان کو اربوں ڈالر دیتے ہیں لیکن وہ دوسری جانب انھی دہشت گردوں کو پناہ دیتے ہیں جو ہمارے دشمن ہیں۔’

‘امریکہ سے شراکت داری پاکستان کے لیے بہت سود مند ثابت ہو گی لیکن اگر وہ مسلسل دہشت گردوں کا ساتھ دے گا تو اس کے لیے مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔‘

پاکستان کے مختصر دورے پر آنے والے امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن کا بگرام کے فوجی اڈے پر تھا کہ امریکہ نے پاکستان سے طالبان اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائی سے متعلق مخصوص درخواستیں کی ہیں۔

اس سے قبل رواں ماہ ریکس ٹلرسن کا کہنا تھا کہ ‘ہمیں پاکستان کی حکومت کے مستقبل کے بارے میں تشویش ہے، ہم چاہتے ہیں کہ وہاں کی حکومت مستحکم ہو، پرامن ہو، اور کئی ایسے مسائل جن سے وہ نبردآزما ہیں وہ ہمارے مسائل بھی ہیں۔’

جنوبی ایشیا کے بارے میں نئی امریکی پالسیی سامنے آنے اور پاکستان سے اس قسم کے مطالبات کے بعد پاکستان نے رواں سال اگست میں اپنی مصروفیات کو وجہ بتا کر ایک اعلیٰ امریکی وفد کے دورے کو منسوخ بھی کر دیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے