امریکہ ترکی تنازعے میں شدت، دونوں نے ویزا سروسز معطل کر دیں

امریکہ اور ترکی کے درمیان سفارتی تنازع شدت اختیار کر گیا ہے اور دونوں ملکوں نے ایک دوسرے کے لیے اپنی بیشتر ویزا سروسز معطل کر دی ہیں۔

واشنگٹن میں ترک سفارت خانے نے کہا کہ اسے مشن اور عملے کی سلامتی کے لیے امریکی حکومت کے عزم کا ازسرِ نو جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔

اس سے پہلے ترک حکام نے استنبول میں امریکہ کونسلیٹ کے ایک اہلکار کو گذشتہ برس ترکی میں ہونے والی ناکام بغاوت کے مبینہ سرغنہ فتح اللہ گولن کے ساتھ روابط کے الزام میں حراست میں لے لیا تھا۔

امریکی حکومت نے اس اقدام کو بےبنیاد اور دوطرفہ تعلقات کے لیے نقصان دہ قرار دیا تھا۔

ترکی کے سرکاری خبررساں ادارے کے مطابق یہ اہلکار ترک شہری تھا۔

اتوار کو ایک بیان میں واشنگٹن میں ترک سفارت خانے نے کہا: ‘حالیہ واقعات نے ترک حکومت کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ ترک مشن اور عملے کی سلامتی کے بارے امریکی حکومت کے عزم کا ازسرِ نو جائزہ لے۔

‘اس جائزے کے دوران ہمارے سفارتی اور کونسلر مشنز کے اندر آنے والے لوگوں کی تعداد کم کرنے کے لیے ہم نے فوری طور پر امریکہ میں اپنے سفارتی اور کونسلر مراکز میں امریکی شہریوں کے لیے تمام ویزا سروسز معطل کر دی ہیں۔’

فتح اللہ گولنتصویر کے کاپی رائٹREUTERS
Image captionترک صدر رجب طیب اردوغان فتح اللہ گولن پر ترکی میں بغاوت کے شعلے بھڑکانے کا الزام عائد کرتے ہیں

ترک حکومت کا بیان عین وہی ہے جو اس سے پہلے امریکہ نے جاری کیا تھا، صرف ملک کا نام بدل دیا گیا ہے۔

امریکی مشن نے کہا تھا کہ اس نے ترکی میں واقع تمام سفارتی مراکز میں نان امیگرینٹ ویزا سروسز معطل کر دی ہیں۔’

ترک حکومت کئی مہینوں سے واشنگٹن پر دباؤ ڈال رہی ہے کہ وہ امریکہ میں مقیم مذہبی رہنما فتح اللہ گولن کو ترکی کے حوالے کر دے، جن پر الزام ہے کہ انھوں نے جولائی 2016 میں ترک حکومت کا تختہ الٹنے کی منصوبہ بندی کی تھی۔

تاہم گولن اس الزام کی تردید کرتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے