اللہ اور رسول کی محبت کسی کی فرنچایئز نہیں: احسن اقبال

پاکستان کے وزیر داخلہ احسن اقبال کا کہنا ہے کہ جہاد کا تعین کرنا ریاست کا حق ہے اور سوشل میڈیا پر فتوے جاری کرنے والوں کے خلاف سائبر کرائم کے قانون کے تحت کارروائی کی جائے گی۔

جمعے کے روز اسلام آباد میں قومی اسمبلی کے اجلاس میں احسن اقبال نے کہا کہ ہر محلے اور مسجد سے فتوٰی جاری ہونے سے ملک میدان جنگ بن جائے گا اور اب وقت آ گیا ہے کہ داخلی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے والے رجحانات کی بیخ کنی کی جائے۔

یاد رہے کہ الیکشن ایکٹ 2017 کی منظوری کے دوران مبینہ طور پر ختم نبوت کے حلف نامے میں تبدیلی پر سوشل میڈیا پر بعض گروہوں کی طرف سے حکومت کے خلاف مہم چلائی جا رہی ہے۔

الیکشن ایکٹ 2017 میں کی جانے والی ترمیم انتخابات کے دوران اُمیدواروں کے حلف نامے پر اثر انداز ہوئی تھی اور اپوزیشن سمیت متعدد مذہبی جماعتوں کی جانب سے اس جانب توجہ مبذول کروانے کے بعد اس مسئلے کو ترمیم کے ذریعے حل کر لیا گیا تھا۔

اس حوالے سے سوشل میڈیا پر حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر مختلف افراد نے اپنی پوسٹ میں نواز شریف کے خلاف ہرزہ سرائی کی جا رہی ہے۔

قومی اسمبلی سے خطاب میں احسن اقبال نے کہا کہ ‘یہ نہیں ہو سکتا کہ سوشل میڈیا پر جس کا جو دل چاہے فتوے دے، آئین اور قانون میں اس کی گنجائش نہیں ہے۔’

انھوں نے کہا کہ تمام اراکین اسمبلی الیکشن میں نامزدگی کے لیے حلف نامہ پر دستخط کر کے آئیں ہیں۔

احسن اقبال نے کہا کہ ‘حب اللہ اور حبِ رسول کسی کی فرنچایئز نہیں ہے، کسی کے پاس یہ ٹھیکہ نہیں ہے کہ اس سے سرٹیفکیٹ نہ لیا تو تعلق ٹوٹ جائے گا۔’

پاکستان، پارلیمانتصویر کے کاپی رائٹAFP

احسن اقبال نے کہا کہ کسی کو حق نہیں پہنچتا کہ وہ دوسرے پر انگلی اٹھائے جبکہ مذہبی جذبات پر سیاست کرنا گھناؤنا جرم ہے۔

انھوں نے کہا کہ ‘کون کافر کون مسلمان یہ اللہ کے ہاتھ میں ہے جس نے جنت اور جہنم کا فیصلہ کرنا ہے۔ ہمیں اللہ کا کام اپنے ہاتھ میں نہیں لینا چاہیے۔ اسی طرح ہم نے سزا کا نظام فتوے کی صورت میں دے دیا ہے۔ کسی مسلمان کا قتل واجب ہونا یا نہ ہونا تعزیرات پاکستان اور پاکستان کے قانون کے تحت ہو سکتا ہے۔’

احسن اقبال نے کہا کہ کسی شہری کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ کسی دوسرے شہری کے بارے میں قتل کا فتوی جاری کرے۔

You May Also Like

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے