آزادی کے رہنماؤں سے آخری تعلق بھی ختم

دینا واڈیا کا انتقال جمعرات کو اٹھانوے برس کی عمر میں ہوا۔ وہ بانی پاکستان محمد علی جناح کی اکلوتی اولاد تھیں اگرچہ ان دونوں کے اختلافات تھے کیونکہ دینا واڈیا نے اپنے والد کی طرح ایک غیر مسلم سے شادی کی تھی۔

وہ باقاعدگی سے عوامی توجہ سے دور رہنے کی پوری کوشش کرتی تھیں لیکن پانچ برس کی کوششوں کے بعد ستمبر دو ہزار دو کو نیویارک کے میڈسن ایونیو میں ان کے ڈیپارٹنمٹ میں ملاقات کرنے میں کامیابی ملی۔

میں نائن الیون حملوں کی پہلی برسی کی کوریج کے لیے امریکہ میں تھا اور دینا نے کہا کہ میں ان سے ملنے آ سکتے ہیں۔ وہ ایک طرح کے خصوصی اپارمنٹ بلڈنگ میں رہتی تھیں جہاں اگر آپ متوقع یا ملاقات طے نہیں تو آپ اس کی لابی تک نہیں پہنچ پاتے۔

دینا نے مجھے اپنا انٹرویو ریکارڈ کرنے کی اجازت نہیں دی۔ انھوں نے اصرار کیا کہ کچھ بھی ریکارڈ پر نہیں ہونا چاہیے۔ انھوں نے تصویر کھینچنے کی اجازت بھی نہیں دی لیکن وہاں سے نکلتے وقت رویہ نرم ہوا اور مجھے اپنی لندن میں 1943 میں تیار کی جانے والے مکمل پوٹریٹ کی تصویر بنانے کی اجازت دے دی گئی۔ اس وقت وہ بیٹے کی امید سے تھیں۔

اب جب ان کا انتقال ہو گیا ہے تو میں رازداری کی بندش سے آزاد ہو گیا ہوں اور جو انھوں نے کہا تھا اس میں خاص کر کچھ حیران کن کر دینے والا نہیں تھا تو میں اس کے بارے میں بات کر سکتا ہوں۔

جب انھوں نے خود دروازہ کھولا تو میں ان کی شخصیت میں کھو گیا۔ وہ چاق و چوبند اور چھوٹی مگر خوبصورت تھیں۔ انھوں نے شوخ سرخ لپ سٹک لگا رکھی تھی اور رخسار کی اونچی ہڈی اور نوکیلی ناک تھی اور تحکمانہ احساسات تھے اور حیران کن طور پر ان کی شکل اپنے والد سے ملتی تھی۔

جناح اور گاندھیتصویر کے کاپی رائٹAFP/GETTY
Image captionدینا واڈیا اپنے والد کر طرح گاندھی کے لیے اچھے خیالات رکھتی تھیں

یقیناً مجھے یاد ہے کہ ان کی پہلی جھلک سے جو حیرت ہوئی، کہ وہ یقیناً اپنے والد کی بیٹی ہیں۔

دینا واڈیا دوستانہ اور خوشگوار شخصیت کی مالک تھیں۔ انھوں نے مجھے اپنی خوبصورت ماں رتنی بائی کی تصویر دکھائی۔ ان کا انتقال اس وقت ہوا جب دینا نو برس کی تھیں۔

دینا کی زیادہ تر پرورش نانی نے کی۔ ان کے ڈیسک پر اپنے والد کی ایک تصویر تھی۔ انھوں نے جناح پر اپنے فخر کے بارے میں بتایا۔ ہاں، پارسی اور بعد میں مسیحی مذہب اختیار کرنے والے نویل واڈیا سے شادی پر جھگڑا ہوا تھا لیکن بعد میں صلح ہو گئی تھی اور ایک دوسرے سے بات چیت اور لکھتے تھے۔

دینا نے بتایا کہ جو مسلم لیگ نے پاکستان کا مطالبہ حاصل کر لیا تو ان کے والد نے انھیں دہلی سے فون کیا تھا کہ ‘ہم نے حاصل کر لیا۔‘

دینا واڈیا اور جناحتصویر کے کاپی رائٹNATIONAL ARCHIVES ISLAMABAD

دینا نے حساب لگاتے ہوئے کہا کہ ان کی اپنی شخصیت اور طبعیت اپنی والد اور پھر والدہ پر گئی ہے۔

دینا نے کبھی پاکستان میں اپنا گھر نہیں بنایا۔ انھوں نے مجھے بتایا کہ ان کا شہر بمبئی ہے اگرچہ انھوں نے طویل عرصہ لندن اور نیویارک میں گزارا۔ وہ پاکستان 1948 میں اپنے والد کے جنارے میں شرکت کرنے گئیں تھیں اور اس کے علاوہ دو بار اپنی پھوپھو فاطمہ جناح سے ملاقات کرنے لیکن جب ان سے ملاقات ہوئی تو فاطمہ جناح کے انتقال کے بعد 1967 سے کبھی پاکستان نہیں گئیں تھیں۔

دینا کا کہنا تھا کہ انھیں بینظیر بھٹو اور دیگر پاکستانی رہنمائوں کی جانب سے متعدد بار پاکستان آنے کی دعوت ملی لیکن انھوں نے مستقل مزاجی سے انکار کیا۔ وہ نہیں چاہتی تھیں کہ نشانی یا علامت کے طور پر استعمال کیا جائے۔ انھوں نے اس کے ساتھ شکایت کی کہ رہنماؤں نے ملک کو ‘لوٹا’ تھا اور خبردار کیا کہ کسی مسلمان ملک میں جمہوریت پروان نہیں چڑھی۔

ہماری ملاقات کے دو برس بعد دینا نے کراچی کا دورہ کیا جہاں وہ اپنے والد کے مزار پر گئیں اور اس کے ساتھ کرکٹ ڈپلومیسی میں حصہ ہے۔

محمد علی جناح کا مزارتصویر کے کاپی رائٹGETTY IMAGES

دینا کو آزادی ہند کی تحریک کے دن یاد تھے اور ان کے گاندھی کے بارے میں بڑی اچھی یادیں تھیں لیکن سردار پٹیل کے بارے میں کہنا تھا کہ وہ سیدھے سادھے تھے جبکہ نہرو کے بارے میں ان کا خیال تھا کہ وہ ان کے والد کے برابر نہیں اور خوشامد کرنے والے تھے جبکہ ہندوستان میں برطانوی وائسرے ماؤنٹبیٹن کو انھوں نے بالکل ایسی شخصیت قرار دیا جن پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا تھا۔

اپنے والد محمد علی جناح کی نیک نامی، شہرت اور جس طرح ان کی پاکستان میں یاد منائی جاتی ہے،اس کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ انھیں یہ پسند نہیں جس طرح سے ان کے والد کی’پوجا’ کی جاتی ہے۔

وہاں سے نکلنے کے بعد اس ملاقات کی یادداشتیں میرے اندر ہی رہیں اور نیویارک میں اپنے ہوٹل پہنچنے کے فوری بعد میں نے ملاقات کے نوٹس تیار کیے اور یہ تحریر لکھتے وقت وہ نوٹس میرے سامنے ہیں۔

مجھے دینا کی وفات کی خبر پر دکھ ہوا ہے۔ ان کے بارے میں کچھ غیر معمولی تھا اور ان کے گزرنے کے ساتھ جنوبی ایشیا میں آزادی کے رہنماؤں کے ساتھ بچ جانے والا آخری تعلق بھی ختم ہو گیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے