’آزادی کی تحریکوں اور دہشت گردی میں فرق کرنا چاہیے‘

اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقبل مندوب ملیحہ لودھی نے اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی کی طرف سے تجویز کردہ دہشت گردی کے بارے میں بین الاقوامی کنونشن کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں دہشت گردی اور حق خود ارادیت کے لیے جاری جائز تحریکوں کے درمیان فرق کو واضح کیا جانا چاہیے۔

پاکستان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی بین الاقوامی قانونی معاملات سے متعلق چھٹّی کمیٹی سے خطاب کرتے ہوئے ملیحہ لودھی نے کہا کہ دہشت گردی کے مجوزہ کنونشن کی عالمی طور پر مسلمہ انسانی حقوق سے بھی مطابقت ہونی چاہیے۔

یاد رہے کہ سعودی عرب نے اسلامی ملکوں کی تنظیم کی جانب سے سکستھ کمیٹی کے سامنے بین الاقوامی دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے ایک جامع دستاویز رکھی تھی۔

ملیحہ لودھی نے کہا کہ جو طاقتیں دہشت گردی کے خلاف عالمی اتفاق رائے کا سہارا لے کر خق خود ارادیت کی تحریکوں کو کچلنے کی کوششیں کر رہی ہیں انھیں ایسا کرنے کی اجازت حاصل نہیں ہونی چاہیے۔

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر اور فلسطینی علاقوں میں جاری حق خود ارادیت کی تحریکیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ملیحہ لودھی نے اس بات پر زور دیا کہ فوری طور پر دیرینہ اور حل طلب تنازعات، طاقت کے غیر قانونی استعمال، جارحیت، غیر ملکی تسلط اور لوگوں کو حق خود ارادیت سے محروم رکھنے جیسے مسائل پر توجہ دی جانی چاہیے۔

پاکستانی مندوب کا کہنا تھا کہ معاشی اور سیاسی ناانصافی سے تلخی اور کشیدگی پیدا ہوتی ہے جو اکثر تشدد کا رخ اختیار کر لیتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ‘ان مسائل کے بارے میں وسیع نظری سے کام لینا چاہیے وگرنہ عالمی برادری مسائل کی جڑ تک نہیں پہنچ سکے گی۔‘

انھوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ دہشت گردی کو کسی مذہب، فرقے، عقیدے، نسل، لسانی گروہ، ثقافت اور کسی معاشرے کی اقدار سے نہیں جوڑا جانا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ کسی مذہب یا کسی خاص خطے کے لوگوں کو بدنام کرنے کے رجحان کا بھی تدارک کرنا ہو گا کیونکہ اس کی وجہ سے اکثر پرتشدد ردعمل سامنے آتا ہے۔

اس تقریر کے دوران ملیحہ لودھی نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں کا تفصیل سے ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ملک کے قبائلی علاقوں میں دہشت گردوں کے اڈوں اور ‘انفراسٹرکچر’ کو تباہ کر کے دہشت گردی کے خلاف مستقل مزاجی سے کارروائیاں کر کے ملک کے اندر اٹھنے والے دہشت گردی کے طوفان کا منہ موڑ دیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے